تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 73 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 73

تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم اقتباس از خطبه جمعه فرمود و 28 فروری 1941ء اخلاق فاضلہ کا پیالہ دلوں میں رکھو خطبہ جمعہ فرمودہ 28 فروری 1941ء میں دیکھتا ہوں کہ مسلمانوں میں اخلاق کی طرف بہت کم توجہ ہے بلکہ ابھی احمدیوں نے بھی اخلاق کی اہمیت کو پوری طرح نہیں سمجھا۔میرے سامنے اس وقت بچے بیٹھے ہیں جو تحریک جدید کے بورڈنگ میں رہتے ہیں۔میں نے تحریک جدید کے مطالبات میں ایک شق اخلاق فاضلہ کی بھی رکھی ہوئی ہے۔مگر میں نہیں سمجھتا کہ ان بچوں کے سپرنٹنڈنٹ اور اساتذہ وغیرہ اخلاق کی اہمیت کو ان پر پورے طور پر ظاہر کرتے ہوں۔اس لئے تحریک جدید کے بورڈنگ سے نکل کر جو طالب علم باہر گئے ہیں ، ان کے متعلق کوئی زیادہ اچھی رپورٹیں نہیں آرہیں۔حالانکہ ان کے ماں باپ کی اپنے بچوں کو تحریک جدید کے بورڈنگ میں داخل کرنے کی اصل غرض یہ تھی کہ تعلیم کی علاوہ ان کی اعلیٰ تربیت ہو، ان میں محنت کی عادت ہوتی ، ان میں اعلیٰ درجہ کی دیانت پائی جاتی، ان میں ہمدردی کا مادہ ہوتا ، ان میں سچ کا مادہ ہوتا، ان میں قربانی اور ایشیار کا مادہ ہوتا۔اس طرح وہ ہر کام کے کرتے وقت عقل سے کام لیتے اور وقت کی پابندی کرتے۔اور یہ تمام باتیں ایسی ہیں کہ جب تک ان کو بار بار دہرایا نہ جائے اور جب تک بچوں کو ان باتوں پر عمل نہ کرایا جائے۔اس وقت تک وہ قوم اور دین کے لئے مفید ثابت نہیں ہو سکتے۔یہ اخلاق ہی ہیں جو ان کو کہیں کا کہیں پہنچا دیتے ہیں۔جن لوگوں کو محنت سے کام کرنے کی عادت ہوتی ہے، وہ خواہ کسی بھی ملک چلیں جائیں، انہیں کامیابی ہی کامیابی حاصل ہوتی چلی جاتی ہے۔مگر جوست ہوتے ہیں، انہیں گھر بیٹھے بھی کوئی کام نظر نہیں آتا۔میں نے دیکھا ہے بعض افسر سارا دن فارغ بیٹھے رہتے ہیں اور کہ دیتے ہیں کہ ہمارے محکمہ میں کوئی کام ہی نہیں۔انہیں کبھی یہ سوچنے کی توفیق ہی نہیں ملتی کہ ہمارے سپر د جو کام ہوا ہے، اس کی کیا کیا شاخیں ہیں اور کس طرح وہ اپنے کام کو زیادہ وسیع طور پر پھیلا سکتے اور اس کے شاندار نتائج پیدا کر سکتے ہیں؟ وہ صرف اتنا ہی کام جانتے ہیں کہ رجسٹروں اور کاغذات پر دستخط کئے اور فارغ ہو کر بیٹھ رہے۔لیکن اس جگہ اور اسی دفتر میں جب کوئی کام کرنے والا افسر آتا ہے تو وہ اپنے کام کی ہزاروں شاخیں نکالتا چلا جاتا ہے اور اسے ہر وقت نظر آتا رہتا ہے کہ میرے سامنے یہ کام بھی ہے، میرے سامنے وہ کام بھی ہے۔73