تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 75 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 75

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 28 فروری 1941ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم ہی ہے جیسے طاعون اور ہیضہ میں گرفتار ہونا یا بھڑکتی ہوئی آگ میں گر جانا۔اسی طرح تمام اخلاق فاضلہ ان کو کے ذہن نشین کرائے جائیں تو کیا وجہ ہے کہ ان میں بیداری پیدا نہ ہو اور وہ صحیح اسلامی اخلاق کا نمونہ نہ بنیں؟ مگر اس کے لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ طالب علموں کے سامنے متواتر لیکچر دیئے جائیں اور انہیں بتایا جائے کہ جھوٹ کیا ہوتا ہے؟ سچ کیا ہوتا ہے؟ سچ بولنے کے کیا فوائد ہیں اور جھوٹ بولنے کے کیا نقصانات ہیں؟ میرے نزدیک سو میں سے نوے انسان یہ سمجھتے ہی نہیں کہ سچ کیا ہوتا ہے؟ یہ ایک عام قاعدہ ہے کہ جتنا زیادہ کسی بات کو دہرایا جائے۔اتنا ہی لوگ اسے کم سمجھتے ہیں۔تم کسی شخص سے پوچھو۔حتی کہ کسی گاؤں کے رہنے والے شخص سے بھی دریافت کرو کہ سنیما کیا ہوتا ہے؟ تو وہ ضرور اس کی کچھ نہ کچھ تشریح کر دے گا۔لیکن اگر تم اس سے پوچھو کہ لا الہ الا الله محمد رسول اللہ کی کیا تشریح ہے یا اسلام کو تم نے کیوں مانا ہے؟ تو وہ ہنس کر کہہ دے گا کہ یہ باتیں مولویوں سے دریافت کریں۔آخر یہ فرق کیوں ہے اور کیوں وہ سنیما کی تشریح تو کسی قدر کر سکتا ہے مگر یہ نہیں بتا سکتا کہ اس نے اسلام کو کیوں قبول کیا؟ اس لئے کہ وہ لا الہ الا الله محمد رسول اللہ کو ہر وقت رہتا رہتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ مجھے اس کے سمجھنے کی ضرورت نہیں مگر سنیما کا لفظ جو کبھی کبھی سنتا ہے اور اس لئے لوگوں سے پوچھ لیتا ہے کہ یہ کیا چیز ہے؟ مگر لا اله الا اللہ کو چونکہ اس نے بچپن سے سنا ہوتا ہے۔اس لئے وہ خیال کر لیتا ہے کہ مجھے اس کے متعلق کسی سے پوچھنے کی ضرورت نہیں۔تم میں سے کسی کے بچہ نے اگر ریل کو نہیں دیکھا اور کسی دن تمہیں اسے ریل دکھانے لے جاؤ تو وہ جاتے ہی تم پر سوالات کی بوچھاڑ کر دے گا۔اگر پنچابی ہوگا تو اپنے باپ سے کہے گا با پوا یہ کس طرح چلدی ہے؟ کبھی کہے گا کہ کیا یہ دھوئیں کے ساتھ چلتی ہے؟ اور کبھی یہی خیال کرنے لگ جائے گا کہ اس کے اندر کوئی جن بیٹھا ہے جو اسے حرکت میں لاتا ہے۔غرض وہ تھوڑے سے وقت میں تم سے بیسیوں سوالات کر دے گا۔لیکن کیا اس نے کبھی تم سے یہ پوچھا کہ سورج کیوں بنا ہے؟ اس کی روشنی کہاں سے آتی ہے؟ اس کے اندر گرمی کسی طرح پیدا ہوتی ہے اور اس کی روشنی اور گرمی ختم کیوں نہیں ہو جاتی ؟ وہ بھی تم سے یہ سوالات نہیں کرے گا۔لیکن انجن کے متعلق تم سے بیسیوں سوالات کر دے گا۔اس لئے کہ انجن اس نے ایک نئی چیز کے طور پر دیکھا ہے اور سورج کو اپنی پیدائش ہی سے وہ دیکھتا چلا آیا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ مجھے اس کے متعلق کچھ پوچھنے کی ضرورت ہی نہیں۔پس جتنی زیادہ کوئی چیز انسان کے سامنے آتی ہے۔اتنا ہی وہ اس کی حقیقت اور ماہیت سے نا واقف ہوتا ہے۔یہ ایک قانون ہے جو فطرت انسانی میں داخل ہے کہ جو چیز کبھی کبھا رسامنے آئے گی ، 75