تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 68
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 24 جنوری 1941ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم تھے کہ احمدیت ایک دن ساری دنیا پر غالب آجائے گی۔اور دوسرے لوگ بھی کہیں گے کہ آثار تو ہمیں بھی دیر سے نظر آرہے تھے۔اس وقت کے آنے تک مخالف ہنسی کرے گا، دشمن ٹھیٹھے کرے گا اور کمزور ایمان والا طعنہ دے کر کہے گا کہ قربانیوں کا مطالبہ کر کے جماعت کو کمزور کیا جا رہا ہے۔مگر مبارک ہیں وہ جن کے ایمان اس وقت تقویت پاتے ہیں جس وقت ابھی خدا تعالیٰ کی طرف سے آخری نتیجہ نہیں نکلتا۔کیونکہ وہی ہیں جو خدا تعالی کی درگاہ میں بڑے سمجھے جانے والے ہیں۔دیکھو ا جب مکہ فتح ہوا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ”لاهجرة بعد الفتح“۔اب اس فتح مکہ کے بعد کوئی ہجرت نہیں۔ہجرت تو لوگ پھر بھی کرتے رہے ہیں اور کئی لوگ بعد میں بھی مدینہ مہاجر بن کر گئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا مطلب یہ تھا کہ وہ جو مہاجرین کے متعلق قرآن کریم نے خبر دی ہے کہ ان کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور بڑے بڑے انعام مقرر ہیں۔وہ اب فتح مکہ کے بعد ایمان لانے والوں کو نہیں مل سکتے۔اب کوئی نیا ابو بکر پیدا نہیں ہوسکتا، کوئی نیا عمرہ پیدا نہیں ہوسکتا، کوئی نیا عثمان پیدا نہیں ہوسکتا، کوئی نیا علی پیدا نہیں ہوسکتا، کوئی نیا طلحہ پیدا نہیں ہوسکتا، کوئی نیاز پیر پیدا نہیں ہوسکتا۔غرض وہ لوگ جو اپنے ایمانوں کو پہلے تقویت دیتے اور اپنی زندگیاں خدا تعالیٰ کے لئے وقف کر دیتے ہیں۔وہی ہیں جن پر برکات کے دروازے کھولے جاتے ہیں۔میرا یہ مطلب نہیں کہ وہ تجارت نہیں کرتے ، صحابہ بھی تجارت کیا کرتے تھے۔میرا یہ مطلب نہیں کہ وہ زراعت نہیں کرتے ، صحابہ بھی زراعت کیا کرتے تھے۔میرا یہ مطلب نہیں کہ وہ کوئی اور دنیوی کام نہیں کرتے ،صحابہ بھی اور دنیوی کام کیا کرتے تھے۔بلکہ میرا مطلب یہ ہے کہ وہ تجارتیں تو کرتے ہیں مگر ان کے دل خدا تعالیٰ کے ذکر میں مشغول ہوتے ہیں اور ان کے کان خدا تعالیٰ کی آواز سننے کے منتظر ہوتے ہیں۔جو نہی ان کے کان میں موذن کی آواز آتی ہے۔وہ اپنی تجارت کو چھوڑ کر، وہ اپنی زراعت کو چھوڑ کر، وہ اپنی صنعت کو چھوڑ کر دوڑتے ہوئے مسجد میں حاضر ہو جاتے ہیں۔اسی طرح جب رات آتی ہے تو یہ نہیں ہوتا کہ وہ اس خیال سے کہ دن کو ہم نے ہل چلانا ہے یا کوئی اور مشقت کا کام کرنا ہے، سوئے ہی رہیں اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے نہ اٹھیں۔بلکہ جب تہجد کا وقت آتا ہے تو وہ فورا بستر سے الگ ہو جاتے اور اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اس کی عبادت کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں۔یہی وہ لوگ ہیں جو دین کیلئے اپنے آپ کو وقف کرنے والے ہیں۔وقف کرنا اسی کو نہیں کہتے کہ انسان نوکری نہ کرے یا تجارت نہ کرے یا زراعت نہ کرے اور ہمہ تن دینی کاموں میں مشغول رہے۔بلکہ وہ شخص بھی واقف زندگی ہی ہے جس کے تمام اوقات خدا تعالیٰ کے 68