تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 67
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم اقتباس از خطبه جمعه فرمود 240 جنوری 1941ء روحانی جماعتوں کی ترقی محض خدا تعالیٰ کے فضل سے ہوتی ہے وو خطبہ جمعہ فرمودہ 24 جنوری 1941ء۔۔۔پس ہماری جماعت کو بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اس کی فتوحات اور کامیابیوں میں سے بھی وہی فتوحات اور کامیابیاں بابرکت ہیں جو بغیر ظاہری سامانوں کے ہوں۔آج ہماری حالت بھی درحقیقت وہی ہے جو بدر اور احد کی جنگوں میں صحابہ کی تھی۔ہمیں خدا تعالیٰ نے تلوار نہیں دی بلکہ روحانی ہتھیار دیئے ہیں اور انہی روحانی ہتھیاروں سے ہم قلوب پر فتح حاصل کر رہے ہیں۔پس چونکہ ہماری لڑائی تلوار والی لڑائی نہیں، اس لئے ہماری بدر بھی یہی ہے اور ہماری احمد بھی یہی۔جب کسی گاؤں میں مخالفت کے باوجود کچھ لوگ احمدی ہو جاتے ہیں تو وہی تبلیغی جنگ ہماری بدر کی جنگ کہلائے گی۔کیونکہ ہماری ساری جنگیں تبلیغی اور روحانی ہیں۔اس جنگ کے نتیجہ میں بھی کچھ لوگوں کو تو یمان نصیب ہو جاتا ہے، اور بہت سے ایمان لانے سے محروم رہتے ہیں۔مولوی ثناء اللہ صاحب یہی اعتراض کرتے رہتے ہیں کہ ابھی تو کروڑوں عیسائی اور کروڑوں غیر احمدی موجود ہیں۔احمدیت کو کون سی فتح حاصل ہوئی ؟ مگر یہ ایسی بات ہے جیسے بدر یا احد کی فتح کے وقت کوئی شخص کہتا کہ ابھی تو لاکھوں عرب مخالف ہیں اور یہ بدر اور احد کی فتح کو ہی اپنا بہت بڑا کارنامہ قرار دے رہے ہیں۔مگر جاننے والے جانتے ہیں، پہچانے والے پہنچانتے ہیں اور سمجھنے والے سمجھتے ہیں کہ جنگ بدر، بدر کی فتح نہیں بلکہ مکہ کی فتح تھی اور احد، احد کی فتح نہیں بلکہ مکہ کی فتح تھی۔ویسے ہی جن کو خدا تعالیٰ نے آنکھیں دی ہیں، وہ جانتے ہیں کہ جب کسی پہاڑی دامن میں ایک چھوٹے سے گاؤں کے دو چار لوگوں کو ہم احمدی بنالیتے ہیں تو درحقیقت یہ اس گاؤں کی فتح نہیں ہوتی بلکہ خدا تعالیٰ کے دفتر میں تمام دنیا کی فتح ہوتی ہے۔بے شک اس وقت وہ فتح بعض احمدیوں کے ایمان کی ترقی کا موجب بھی نہیں بنتی بلکہ بعض کہہ بھی دیتے ہیں کہ اگر فلاں جگہ دو چار احمدی ہو گئے ہیں تو کیا ہوا؟ مگر جب ان چھوٹی چھوٹی فتوحات کا مجموعی نتیجہ پیدا ہوگا تو ایک دم دنیا یوں گرنے لگے گی جیسے دریا کے کنارے کی زمین گرنے لگتی ہے۔اور اس وقت کمزور ایمان والے گرد نہیں اٹھا اٹھا کر کہیں گے کہ ہم پہلے ہی اس بات پر ایمان رکھتے 67