تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 735
تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 26 اپریل 1946ء چوڑھے بھجوادیے جائیں، اگر تم اس بات پر راضی ہو کہ تمہاری طرف بنگی بھجوائے جائیں، اگر تم اس بات پر راضی ہو کہ تمہاری طرف سائنسی بھجوائے جائیں، اگر تم اس بات پر راضی ہو کہ تمہاری طرف عیسائی مبلغ بھجوائے جائیں تو بڑے شوق سے اپنے لڑ کے دین کی تعلیم کے لئے نہ بھجواؤ۔اور کہہ دو کہ کسی مذہب و قوم کا آدمی ہو، اس کا نام مبلغ رکھ کر ہمیں بھجوادو۔لیکن اگر تمہاری مراد مبلغ سے ایک احمدی مبلغ ہے، اگر تمہاری مراد مبلغ سے ایک مسلمان مبلغ ہے، اگر تمہاری مراد مبلغ سے ایک علم دین پڑھا ہوا انسان ہے تو وہ لوگ نہیں آ سکتے ، جب تک تم اپنے بیٹوں کو اس طرف نہیں بھجواتے۔ہر دفعہ جو تم شکایت کرو گے، اس کے یہ معنی ہوں گے کہ تم عقل کا منہ چڑا رہے ہو۔اور ہر دفعہ جو تم شکایت کرو گے ، اس کے معنی یہ ہوں گے کہ تم حقائق سے آنکھیں بند کر رہے ہو۔کیونکہ مبلغ لڑکوں سے ہی تیار ہو سکتے ہیں۔جب تک کوئی جماعت اپنے لڑکے دین کی خدمت کے لئے دینے کو تیار نہیں، اس وقت تک اس جماعت کو یہ حق بھی حاصل نہیں کہ وہ ہم سے مبلغ مانگے۔مگر آخر کب تک یہ سلسلہ چلتا چلا جائے گا ؟ کب تک ہم جماعت کو بیدار کرتے جائیں گے اور وہ خاموش بیٹھی رہے گی ؟ یہ مثال تو وہی ہوگئی ہے جیسے غالب نے کہا ہے کہ ہم کہیں گے حال دل اور آپ فرما ئیں گے کیا؟ وو ہی کوئی ایسی بات نہیں جسے ہماری جماعت کے لوگ سمجھ نہ سکتے ہوں کہ اگر تم اپنے بیٹوں کو مدرسہ میں نہیں بھیجتے تو تمہیں سلسلہ کی طرف سے مبلغ بھی نہیں مل سکتے۔تمہارے ہی بیٹے ہیں، جو مبلغ بن سکتے ہیں۔عیسائیوں کے بیٹے اسلام کے مبلغ نہیں بن سکتے، ہندؤں کے بیٹے اسلام کے مبلغ نہیں بن سکتے ، سکھوں کے بیٹے اسلام کے مبلغ نہیں بن سکتے۔اور اگر تمہارے بیٹے بھی دنیوی کاموں کے لیے وقف رہیں گے تو پھر اسلام کا خانہ بالکل خالی ہے۔پھر ہم سے مبلغ بھی مت مانگو بلکہ کہو کہ دین کا دروازہ ہم نے اپنے اوپر بند کر لیا ہے۔یہ کیوں کہتے ہو کہ مبلغ دور مبلغ دو۔یہ چیز اتنی انتہا درجہ خلاف عقل ہے کہ میں حیران ہوں ، وہ کون سا ذریعہ ہے، جس سے میں جماعت کو سمجھاؤں؟ سوتے کو جگانا آسان ہوتا ہے لیکن جاگتے ہوئے کو جگانا ناممکن ہوتا ہے۔اگر تم واقع میں سوئے ہوئے ہو تو میرے وعظ اور نصیحت سے کبھی کے جاگ چکے ہوتے۔لیکن تم تو جاگتے ہوئے مچھلے بن رہے ہو۔اب میرے پاس کون سا ذریعہ ہے، جس سے میں مچھلے کو جگا سکوں۔محلے کو جگانے کی کسی انسان میں طاقت نہیں ہوتی بلکہ مجلے کو تو خدا بھی نہیں جگا تا۔آخر خدا تعالیٰ نے ابوبکر کو ہدایت دی، ابو جہل کو نہیں دی۔عمر کو ہدایت دی، عتبہ کو نہیں دی۔عثمان کو ہدایت دی، شیبہ کو نہیں دی۔علی کو ہدایت دی، ولید کو نہیں دی۔جب تک تم میں یہ احساس پیدا نہیں ہوتا کہ دین 735