تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 734 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 734

اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 26 اپریل 1946ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم جماعت کو توجہ دلا رہا ہوں کہ ہمارے تبلیغی ادارے کمزور ہورہے ہیں اور تبلیغ کی وسعت ، جو ہمارے ذمہ لگائی گئی ہے، اس کا اندازہ اتنا زیادہ ہے کہ اس کے لیے ہمیں اپنے آدمیوں کو قربانی کے تنور میں اس طرح جھونکنا پڑے گا ، جس طرح بھٹی والا اپنی بھٹی میں پتے جھونکتا ہے۔مگر باوجود اس کے میں دیکھتا ہوں کہ گا، جماعت میں پوری طرح بیداری پیدا نہیں ہو رہی۔میں مایوس تو نہیں کیونکہ ہر چیز آہستہ آہستہ آتی ہے۔لیکن میں یہ بھی دیکھ رہا ہوں کہ جماعت کی سستی کی وجہ سے ہمارے کاموں کو سخت نقصان پہنچ رہا ہے۔میں نے پچھلے سال جماعت کو مدرسہ احمدیہ میں داخلہ کی طرف توجہ دلائی تھی اور کہا تھا کہ اگر تم اپنے لڑکوں کو اس مدرسہ میں داخل نہیں کرو گے تو آخر اسلام اور احمدیت کی تبلیغ کے لیے ہم کہاں سے مبلغ لا ئیں گے؟ اس سال خدا تعالیٰ نے جماعت کو توفیق عطا فرمائی اور چالیس کے قریب لڑکے مدرسہ احمدیہ کی پہلی جماعت میں داخل ہوئے۔لیکن آج جب میں نے پتہ لیا تو معلوم ہوا کہ اس سال صرف چھ لڑ کے داخل ہوئے ہیں۔اور چونکہ کچھ لڑ کے بعد میں نکل بھی جاتے ہیں، اس لیے اس کے معنی یہ ہوں گے کہ قریباً اس جماعت کا بند کر دینا زیادہ اچھا ہے، بہ نسبت اس کو جاری رکھنے کے۔کیونکہ دو تین لڑکوں کے لیے کسی سکول یا جماعت کے کھولنے کے کوئی معنی ہی نہیں ہو سکتے۔لیکن دوسری طرف یہ حالت ہے کہ جماعتیں ہم سے آدمی ضرور مانگتی ہیں۔جب بھی کوئی شخص ملتا ہے، یہی کہتا ہے کہ یہاں کے ناظر بڑے ست ہیں، انجمن بڑی ست ہے۔ہم چٹھیاں لکھتے رہتے ہیں لیکن ہماری طرف کوئی آدمی نہیں بھیجتے۔میں حیران ہوں کہ ایسے لوگوں کے دماغ میں کوئی فتور ہے یا روحانیت کی کمی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کی آنکھوں پر ایسا پردہ ڈال دیا ہے کہ اتنی موٹی بات بھی ان کی سمجھ میں نہیں آتی کہ اگر ہم اپنے لڑکے نہیں بھجوائیں گے تو وہ لوگ مبلغ کہاں سے بھیجیں گئے“۔ہر فرد بشر شور مچارہا ہے کہ ہائے ہمیں مولوی نہیں بھیجتے ہمیں مولوی نہیں بھیجتے۔حالانکہ الزام ان پر آتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو دین کی بجائے دنیا کی طرف بھیجتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ ہمیں مولوی بھیجو، ہمیں مولوی بھیجو۔ہم اگر ہندوؤں کو نو کر رکھنا شروع کر دیں اور ان کا نام مولوی رکھ دیں تو ایسے لوگ ہمیں کئی مل جائیں گے۔ہر قوم میں ایسے لوگ ہیں کہ اگر چالیس پچاس روپے ان کو دے دیئے جائیں تو وہ غیر مذہب کی ملازمت کے لیے بھی تیار ہو جائیں گے۔کئی ہندو ہیں، جو اس معاوضہ پر کام کرنے کے لئے تیار ہو سکتے ہیں۔لیکن کیا تم اس بات پر خوش ہو سکتے ہو کہ تمہاری طرف ہند و مبلغ بھجوا دئیے جائیں ؟ اگر تم اس بات پر راضی ہو کہ تمہاری طرف ہندو بھجوائے جائیں، اگر تم اس بات پر راضی ہو کہ تمہاری طرف 734