تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 736
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 26 اپریل 1946ء " تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم کی بھی کوئی قیمت ہے، جب تک تمہارے نزدیک خدا تعالیٰ کے کلام کے معنی کرنے کی کوئی قیمت نہیں۔لیکن اگر تمہارا بیٹا چاندی کا چمکتا ہوا روپیہ تمہارے پاس لے آئے تو تم خوش ہوتے ہو اور سمجھتے ہو کہ یہ حقیقی چیز ہے، جو ہمارے بیٹے کی کمائی ہے، تب تک تم سے دین کی خدمت کی امید رکھنا عبث اور فضول ہے۔اس طرح ہماری جماعت کا ایک حصہ یہ سمجھتا ہے کہ اگر ان کا بیٹا چمکتا ہوار و پیہ کما کر لاتا ہے تو اس کے مقابلہ میں دین کی تبلیغ اور اسلام کے بچاؤ کا کام کوئی حقیقت ہی نہیں رکھتا۔ہم اپنے بیٹے کو ایسے لغو کام پر کس طرح لگا سکتے ہیں کہ وہ ساری عمر لوگوں کو قرآن پڑھاتا اور بھولے بھٹکوں کو دین کی طرف بلا تا ر ہے؟ ہم اسے کسی ایسے کام پر کیوں نہ لگائیں، جس سے وہ چمکتا ہوار و پہیہ ہمارے پاس لائے ؟ شاید تم میں سے ہر شخص حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مثال سن کر مسکرا دیتا ہو گا کہ وہ شخص کیسا احمق تھا ، جس نے کہا کہ جب لوگوں نے چڑیا جتنا روپیہ میرے سامنے لا کر رکھ دیا تو میں کیا کرتا؟ مگر تم اپنے نفسوں میں غور کرو اور سوچو، کیا تمہیں محسوس نہیں ہوتا کہ یہی کام تم بھی کر رہے ہو؟ ہر وہ شخص ، جو اپنی اولاد میں سے یک حصہ کو دین کی طرف نہیں بھیجتا، وہ گویا چڑیا جتنے روپیہ کو محمدصلی اللہ علیہ والہ وسلم کے احکام اور آپ کی تعلیم پر مقدم سمجھتا ہے۔اور اس کی مثال وہی ہے جیسے کہ کسی شاعر نے کہا کہ عجب طرح کی ہوئی فراغت گدھوں پر ڈالا جو بارا اپنا وو یاد رکھو اگر تم خدا تعالیٰ کے سامنے منہ دکھانے کے قابل بن کر جانا چاہتے ہو ، اگر تم نہیں چاہتے کہ قیامت کے دن تمہارے چہروں پر کول تار ملا جائے ، اگر تم نہیں چاہتے کہ تمہیں ذلت اور نامرادی کا منہ دیکھنا پڑے، اگر تم نہیں چاہتے کہ تمہیں قیامت کے دن تمام اگلی اور پچھلی نسلوں میں شرمندہ اور ذلیل ہونا پڑے تو ہمیں اپنی ذمہ داریوں کو جلد سے جلد سمجھنا چاہئے اور دین کی حفاظت کے لیے اپنی نسلوں کو پیش کرنا چاہئے۔یہ مت خیال کرو کہ میں یا کوئی اور عقلمند یہ سمجھ لے گا کہ تم ، جو اپنے بچوں کو دین کی خدمت کے لیے پیش نہیں کرتے ، اگر کسی وقت جہاد کا زمانہ آگیا تو تم اپنے بچوں کو فوراً اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی جانیں دینے کے لیے پیش کر دو گے۔ہم یہی سمجھتے ہیں کہ ایسے لوگ یقیناً اس وقت بھگوڑوں میں سے ہوں گے اور سب سے پہلے میدان جہاد سے پیٹھ موڑ کر بھاگ جائیں گے۔کیونکہ جو شخص چھوٹی قربانی نہیں کر سکتا ، وہ بڑی قربانی نہیں کر سکتا۔آخر مبلغ مارا نہیں جاتا، اسے ایسی تکلیفیں نہیں پہنچتیں جیسے جہاد میں پہنچتی ہیں۔پھر جولوگ ان تکالیف کو برداشت نہیں کر سکتے ، جو لوگ یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ سو کی بجائے چالیس میں ان کے بیٹے گزارہ کریں، جو لوگ یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ اپنے بیٹوں کو تجارت کی بجائے 736