تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 699
تحریک جدید- ایک البی تحر یک۔۔۔جلد دوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 08 مارچ 1946ء کہاں کہ وہ کپڑوں کو صاف رکھے؟ وہ تو کام سے تھک کر اور چور ہو کر لیٹتا ہے اور اسے چار بجے تک ہوش ہی نہیں آتا۔چار بجے اٹھتے ہی وہ پھر باہر چلا جاتا ہے۔کبھی آپ نے اس کا بھی خیال کیا ہے؟ انہوں نے کہا ، ہاں ٹھیک ہے۔پھر انہوں نے کہا، یہاں کی گورنمنٹ مجھے بوجہ ساؤتھ افریقن ہونے کے ملک میں رہنے کی اجازت نہیں دیتی۔میں بھی چاہتا ہوں کہ وہیں اپنے وطن میں رہوں اور سلسلہ کی تبلیغ کروں۔میں نے کہا ، کیا کسی طرح ہم اپنا مبلغ وہاں بھیج سکتے ہیں؟ انہوں نے کہا، ہاں۔وہاں انہیں استاد کر کے بھیج سکتے ہیں۔میں کہوں گا کہ مجھے اپنے لئے دین کے استاد کی ضرورت ہے، اس طرح وہ میرے استاد بن کر جا سکتے ہیں۔میں نے کہا کہ آپ جائیں اور استاد کے لئے درخواست دے دیں۔اجازت ملنے پر ہم وہاں اپنا مبلغ انشاء اللہ بھیج دیں گے۔انہوں نے کہا کہ میری جائیداد کافی ہے۔وہ مبلغ ہمارے مکانات میں رہے گا اور اس کے سارے اخراجات بھی وہیں سے چل جائیں گے۔یہاں سے کسی قسم کی مدد کی ضرورت نہ ہوگی۔اور تبلیغ کے لئے وہاں انشاء اللہ اچھا موقع نکل آئے گا۔انہوں نے بتایا کہ ساؤتھ افریقہ میں اچھی حیثیت والے، جاوا کے لوگ ہیں، جو کسی وقت جاوا سے جلا وطن کئے گئے تھے۔ان کے حقوق ہندوستانیوں سے زیادہ ہیں۔اس پر میں نے تجویز کی کہ ہو سکا تو ہم ایک جاوی احمدی کو مبلغ بنا کر بھجوائیں گے۔جسے انہوں نے پسند کیا۔پرسوں پھر میں نے ان سے ذکر کیا کہ کیا آپ وہاں پر پریکٹس کریں گے یا کوئی اور کام کریں گے؟ انہوں نے کہا کہ میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ میں اپنی زندگی تبلیغ کے لئے صرف کروں گا۔کھانے کی مجھے فکر نہیں۔کھانے کے لئے خدا تعالیٰ نے کافی دیا ہوا ہے۔ہاں ، غریبوں کے لئے مفت پریکٹس کروں گا اور اپنی قوم میں احمدیت کو پھیلانے کے لئے تبلیغ میں لگ جاؤں گا اور یہ مفت پریکٹس بھی تبلیغ میں مد ثابت ہوگی۔ایک تو میں خود مبلغ ہوں گا اور دوسرے مبلغ کو بھی وہاں منگوانے کی کوشش کروں گا۔اور مجھے امید ہے کہ انشاء اللہ اجازت مل جائے گی جیسا کہ پادریوں کوملتی ہے۔کوئی وجہ نہیں کہ ان کو بلانے کی اجازت ہو اور ہمیں نہ ہو۔پھر مجھ سے انہوں نے کہا کہ میں خود بھی بخوبی تبلیغ کر سکتا ہوں لیکن چونکہ میں نے یہاں سے مکمل تعلیم حاصل نہیں کی اور میرے دماغ پر بائبل چھائی ہوئی ہے اور میں نے اپنی ساری عمر انگریزوں کے ساتھ ہی بسر کی ہے، اس لئے ڈرتا ہوں کہ ایسانہ ہو ، کوئی بات ایسی میرے منہ سے نکل جائے جو احمدیت کے خلاف ہو اور پھر اس کو بعد میں مٹانا مشکل ہو جائے۔اور لوگ کہیں کہ پہلے مبلغ نے ہمیں یہ بات سکھائی تھی، اب اس کے خلاف کیوں کہتے ہو؟ اس لئے مناسب ہے کہ ایک مبلغ ہو ، جو ان لوگوں کو صحیح تعلیم پہنچائے۔میں اس کی ہر طرح مدد کروں گا اور پھر اس کے ذریعہ مجھے بھی علم حاصل ہو جائے گا۔699