تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 698
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 08 مارچ 1946ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم ہیں۔ان کے والد کیپ ٹاؤن کے علاقہ کے ویسے ہی لیڈر تھے جیسے مسٹر گاندھی شال کے۔اور دونوں مل کر کام کیا کرتے تھے۔جب ڈاکٹر صاحب مجھے ملے تو انہوں نے بتایا کہ مسٹر گاندھی کئی دفعہ ہمارے گھر آکر ٹھہرتے اور کئی دفعہ ہم ان کے گھر جا کر ٹھہرتے۔ان کے دوسرے بھائی بھی احمدی ہیں لیکن ہمشیرہ احمدی نہیں۔امیر آدمی ہونے کی وجہ سے گزارے سے بے فکر ہیں کیونکہ جائیداد کے کرایہ کی آمد انہیں کافی ہو جاتی ہے۔ڈاکٹر صاحب بہت دیر سے احمدی ہیں۔جب میں ولایت گیا تھا تو یہ کچھ دنوں کے لئے اتفاقاً وطن گئے ہوئے تھے، اس لئے ان سے ملاقات نہ ہو سکی۔اب پہلی دفعہ میں نے ان کی شکل دیکھی ہے۔انہوں نے کہا کہ میں اصل میں ساؤتھ افریقہ جارہا تھا اور میں نے وہیں کا پاسپورٹ لیا ہوا تھا۔جب کلکتہ پہنچا تو ارادہ ہوا کہ ہندوستان میں ٹھہر جاؤں۔کیونکہ کلکتہ کی غلاظت دیکھ کر مجھ پر اتنا اثر ہوا کہ میں نے ارادہ کیا کہ کوئی علاقہ تجویز کر کے ہندوستان کے لوگوں کو صفائی کے ساتھ رہنے کی عادت ڈالوں اور ساتھ ہی تبلیغ بھی کروں۔وہ چونکہ پہلی دفعہ یہاں آئے تھے، اس لئے ان کو بات آہستگی سے سمجھانی پڑتی تھی۔میں نے کہا اس قسم کے نیک ارادے لے کر یہاں بڑے بڑے پادری آئے لیکن ہم لوگوں کو صفائی سکھاتے سکھاتے وہ خود تھک گئے۔سینکڑوں سال کی عادتیں آہستہ آہستہ ہی ہٹتی ہیں۔ایک آدمی کس طرح اتنا بڑا کام کر سکتا ہے؟ پھر یہ بھی سوچنے کی بات ہے کہ آپ جن لوگوں کو صفائی سکھانا چاہتے ہیں، کیا کبھی ان کی معذوریاں بھی آپ نے سوچی ہیں؟ آپ کا ملک مالدار ہے۔جہاں آپ نے عمر گزاری ہے ، وہ ملک بھی مالدار ہے۔لیکن ہمارے ملک کا یہ حال ہے کہ فی آدمی ڈیڑھ آئنہ روزانہ آمد ہوتی ہے۔کسی کے پاس چار کنال زمین ہے کسی کے پاس گھماؤں کسی کے پاس دو گھماؤں اور کسی کے پاس پانچ ، چھ، سات یا آٹھ گھماؤں۔اور کثرت ایسے لوگوں کی ہے، جن کے پاس سات، آٹھ گھماؤں سے بھی کم زمین ہے اور وہ بھی پھیلی ہوئی۔کسان بیچارہ صبح چار بجے اٹھتا ہے، سات، آٹھ گھنٹے ہل چلاتا ہے، پھر بھینسوں کو نہلاتا ہے، جانوروں کو چارہ ڈالتا ہے اور چونکہ اکثروں کے پاس اتنی زمین نہیں ہوتی کہ اس سے چارہ نکال سکیں ، اس لئے کھر پالے کر نکل جاتے ہیں۔کچھ گھاس سڑک کے اس کنارے سے کاٹا اور کچھ ادھر سے کاٹا اور پھر کچھ تیسری جگہ سے کاٹا۔اور کئی گھنٹہ کی محنت کے بعد کچھ گھاس اپنے بیلوں کو لا کر ڈالتے ہیں۔تب ان کے بیل زندہ رہتے ہیں اور ان کے بچوں کو روٹی ملتی ہے۔اور وہ بھی دو وقت کی نہیں کبھی ایک وقت کی ملتی ہے اور کبھی دو وقت کی۔اب بتائیں جس کو سارا دن کام کرنے کے بعد پیٹ بھر کر کھانے کے لئے روٹی بھی نہ ملے ، اس کو کپڑا کہاں سے ملے گا؟ جس بیچارے کے پاس صرف ایک تہہ بند ہے، اس کے پاس ہمت 698