تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 697 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 697

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 08 مارچ 1946ء اللہ تعالیٰ نے ہمارے متعلق جو حسن ظنی کی ہے، اسے پورا کریں " خطبہ جمعہ فرمودہ 08 مارچ 1946ء چوتھی بات میں یہ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ غیب سے ہمارے سلسلہ کی ترقی کے سامان پیدا کر رہا ہے۔چنانچہ انہی دنوں خدا تعالیٰ نے بعض ایسے سامان پیدا کئے ہیں، جو انسان کو تعجب میں ڈالتے ہیں۔دنیا میں بعض علاقے ایسے ہیں، جہاں ہم لوگوں کا جانا، خصوصاً ہندوستانیوں کا جانا، قریباً ناممکن ہے۔اور جو ہندوستانی پہلے سے وہاں گئے ہوئے ہیں، وہ بھی کئی قسم کی تکالیف اٹھاتے رہتے ہیں۔جیسے ساؤتھ افریقہ ہے۔ساؤتھ افریقہ والے نئے ہندوستانیوں کو وہاں نہیں آنے دیتے اور پرانے ہندوستانی باشندوں پر اتنی سختی کرتے ہیں کہ ریستوران اور ہوٹلوں میں ہر جگہ یہ لکھا ہوتا ہے کہ ہندوستانی یہاں نہیں آسکتے۔ریل گاڑیوں پر لکھا ہوتا ہے کہ ہندوستانیوں کو یہاں داخل ہونے کی اجازت نہیں۔ان کے لئے بعض مختص ڈبے ہوتے ہیں، جن پر یہ لکھا ہوتا ہے کہ یہ ہندوستانیوں کے لئے ہیں۔ہوٹلوں کے باہر لکھا ہوتا ہے کہ ہندوستانیوں کو ان میں داخل ہونے کی اجازت نہیں یا لکھا ہوتا ہے کہ فلاں کمرے میں ہندوستانی بیٹھ کر کھانا کھا سکتے ہیں۔ایسی جگہ پر ہمارے کسی آدمی کا پہنچنا بالکل ناممکن تھا۔سالہا سال سے ہم حسرت کی نگاہ سے دیکھ رہے تھے کہ کوئی ذریعہ وہاں آدمی بھجوانے کا نکل آئے تو ہم وہاں اپنا مبلغ بھیج دیں لیکن کوئی ذریعہ نظر نہیں آتا تھا۔پیر کے دن اچانک مجھے معلوم ہوا کہ ڈاکٹر یوسف سلیمان صاحب، جنہوں نے انگلستان میں ڈاکٹری پاس کی اور وہیں اپنی جوانی کے ایام میں رہے ہیں، اچانک قادیان میں آ پہنچے ہیں۔مجھے اس سے پہلے نیر صاحب کا خط آیا تھا کہ ڈاکٹر سلیمان صاحب قادیان آرہے ہیں اور میں حیران تھا کہ ڈاکٹر سلیمان صاحب کے آنے کی نہ شمس صاحب نے اطلاع دی ہے اور نہ کسی اور نے۔یہ بات کیا ہے؟ مگر ابھی نیر صاحب کو اس بارے میں کوئی خط نہیں لکھا گیا تھا کہ ڈاکٹر صاحب اچانک قادیان پہنچ گئے۔ڈاکٹر صاحب نے اپنی ساری عمر انگلستان میں گزاری ہے۔انہوں نے ڈاکٹری پاس تو کی تھی لیکن ڈاکٹری پیشہ اختیار نہیں کیا۔ان کے والد صاحب امیر آدمی تھے اور اتنی جائیداد انہوں نے چھوڑی ہے کہ وہ اسی پر گزارہ کرتے 697