تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 661 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 661

تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم خطبہ جمعہ فرمود : 25 جنوری 1946ء تعداد کم ہو گئی ہے۔لیکن پھر بھی ایک طرف سارے پنجاب کے مولوی فاضل ہوں اور دوسری طرف ہمارے تو پھر بھی ہمارے مولوی فاضل ان سے کئی گنا زیادہ ہوں گے۔لیکن باوجود اس کے پھر بھی ہمارے کاموں کے لئے کم ہیں۔آج کل آٹھ ، نو طالب علم مولوی فاضل کا امتحان دیتے ہیں۔لیکن غیر احمدی امتحان دینے والے، جو پہلے کم ہوتے تھے ، اب بڑھ گئے ہیں۔اسی لئے میں نے تحریک کی ہے کہ دوستوں کو اپنے بچوں کو اعلئے دینی تعلیم کے لئے انہیں مدرسہ احمد یہ میں داخل کرانا چاہیے۔اس پر تھیں، پینتیس لڑکے مدرسہ احمدیہ میں داخل ہوئے۔جن میں سے کچھ داخل ہونے کے بعد کھسکنے شروع ہو گئے۔لیکن پھر بھی چھپیں، چھبیس باقی ہیں۔لیکن ان چھپیں سے ہمارا کام نہیں بنتا، پچاس سے بھی کام نہیں بنتا، سو سے بھی کام نہیں بنتا۔بلکہ ہمیں ہزاروں آدمیوں کی ضرورت ہے۔میں نے اس سے پیشتر جماعت کو بتایا تھا کہ اگر سولڑ کا ہر سال جامعہ احمدیہ سے تحصیل علم کے بعد فارغ ہو تو دس سال میں جا کر ہم ہزار مبلغ تیار کر سکتے ہیں۔لیکن اگر ہر سال بمشکل پچپیں طلباء جامعہ سے فارغ ہوں تو اس لحاظ سے تو ہم دنیا کی مانگ کو کسی صورت میں پورا کر ہی نہیں سکتے۔دنیا کے چاروں طرف سے مبلغین کی مانگ آنے والی ہے اور مبلغین کا کام بہت وسیع ہونے والا ہے۔ابھی ابھی ایک جگہ سے دس مبلغین کی اور دوسری جگہ سے بارہ مبلغین کی مانگ آئی ہے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کو اس سے زیادہ کی ضرورت ہے۔کیونکہ مانگنے والا ڈرتا ہے کہ کہیں زیادہ مطالبہ سے کام بگڑ نہ جائے۔بے شک انہوں نے اس وقت بارہ مبلغوں کا مطالبہ کیا ہے۔لیکن جب ہم ان کو بارہ مبلغ دے دیں گے تو وہ کہیں گے ، اصل بات یہ ہے کہ اگر آپ چوہیں مبلغ دے دیں تو پھر کام ہو جائے گا۔جب چوبیس مبلغ دے دیئے جائیں گے تو پھر کہیں گے کہ ٹھیک اندازہ نہیں ہو سکا اور اندازہ کرنے میں غلطی ہوئی ہے، اگر آپ چھتیس مبلغ ہمیں دے دیں تو کام ہو جائے گا۔جب ان کو چھتیں مبلغ دے دیئے جائیں گے تو وہ نہیں گے کہ ہم سے غلطی ہو گئی تھی ، اصل میں تو سو مبلغوں کی ضرورت ہے، اگر آپ سو مبلغ دے دیں تو پھر یہ کام ضرور ہو جائے گا۔آخر ملکوں میں تغیر پیدا کرنا اور ان کے مذہب کو بدلنا کوئی آسان کام نہیں۔اس کے لئے بہت بڑی جدو جہد اور بہت بڑی قربانیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔اور غیر ممالک کی جماعتوں کا تو ہمیں یہ بھی فائدہ ہے کہ وہ تبلیغ کا خرچ خود اٹھاتی ہیں اور ہم پر بار نہیں بنتیں۔اور بعض ملک مبلغین کا کرایہ وغیرہ بھی خود برداشت کرتے ہیں۔ہمارا کام صرف ایسے آدمی بھیجنا ہوتا ہے، جو وہاں جا کر کام کریں۔شام فلسطین اور مصر سے جو آمد ہوتی ہے، وہ ہماری اس رقم سے، جو ہم ان کے لئے خرچ کرتے ہیں، کم نہیں ہوتی اور ہمیں کچھ اپنے پاس سے ادا نہیں کرنا پڑتا۔گویا وہ حقیقت میں آپ ہی اپنی رقم خرچ کرتے ہیں۔661