تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 662
خطبہ جمعہ فرمودہ 25 جنوری 1946ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم پس اس وقت ایسے تعلیم یافتہ آدمیوں کی ضرورت ہے، جو غیر ممالک میں تبلیغ اسلام کے لئے بھیجے جاسکیں۔جیسا کہ میں نے تحریک جدید کے شروع میں کہا تھا کہ اس کے کاموں کو چلانے کے لئے بہت سے آدمیوں کی ضرورت ہوگی۔روپیہ پیدا کرنے کے لئے بھی آدمیوں کی ضرورت ہے، تبلیغ کرنے کے لئے بھی آدمیوں کی ضرورت ہے ، صنعت و حرفت کے لئے بھی آدمیوں کی ضرورت ہے، تجارت کے کاموں کو چلانے کے لئے بھی آدمیوں کی ضرورت ہے۔پس آج آدمیوں کی ہمیں سخت ضرورت ہے۔لیکن ایسے آدمیوں کی ضرورت ہے، جو خلص اور تعلیم یافتہ ہوں۔تعلیم کی ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئے میرے نزدیک سکولوں اور کالجوں میں لڑکوں کی تعداد آٹھ دس گنے بڑھ جانی چاہیے تھی۔اس میں شک نہیں کہ ہمارے سکول نے پہلے سے ترقی کی ہے۔آج سے چھ، سات سال پہلے ہمارے تعلیم الاسلام سکول میں چھ سات سو کے قریب طالب علم تھے اور اب اس میں سولہ سو سے کچھ او پر طالب علم ہے۔لیکن در حقیقت جماعت کی ضرورتوں کے مطابق یہ ترقی کچھ بھی ترقی نہیں ہے۔مجھے یہ سن کر بہت افسوس ہوا کہ ہمارے کالج میں جو احمدی لڑکے داخل ہوئے ہیں، ان میں سے اکثر ایسے ہیں، جو تھرڈ ڈویژن میں پاس ہوئے ہیں۔کل کو احمدی والدین کالج کے پروفیسروں پر الزام لگا ئیں گے کہ انہوں نے ہمارے بچوں کو کچھ پڑھایا نہیں۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کے لڑکے خود تھرڈ ڈویژن میں پاس ہوئے ہیں۔ان لکھ ڈویژن کے پاس شدہ لڑکوں کے فیل ہونے پر پروفیسروں پر کیا الزام آ سکتا ہے؟ میں نے جماعت کے دوستوں کو بار بار توجہ دلائی ہے کہ والدین کو بچپن میں بچوں کی پوری نگرانی کرنی چاہیے۔جو والدین بچوں کی نگرانی نہیں کرتے اور ان کی تعلیم کی فکر نہیں کرتے ، وہ قتل اولاد نہیں کرتے تو اور کیا کرتے ہیں؟ یہ قتل اولاد نہیں تو اور کیا ہے کہ انسان بچوں کی محبت کی وجہ سے ان کو تعلیم سے غافل رکھے؟ صرف کامیابی ہی مقصود نہیں ہوتی۔جنت میں جانے والا انسان ادنی درجہ میں جائے تو اس پر اسے خوش ہونا نہیں چاہیے۔جو بچوں کی روحانی تربیت مکمل نہیں کرتے ، ان کی اولا د جنت میں گئی تو ادنی درجہ کی جنت میں جائے گی۔اور جو تعلیم میں غفلت کرتے ہیں، ان کی اولاد کے لئے دنیا وی جنت میں سوائے چپڑاسیوں کی جنت کے اور کوئی جگہ نہیں ہے۔پس ایسے لوگوں کے لئے نہ دنیا میں عزت ہے اور نہ آخرت میں۔ایک دفعہ حضرت خلیفہ اول نے درس کے دوران میں بیان فرمایا کہ دوزخ عارضی چیز ہے اور کچھ مدت کے بعد دوزخیوں کو دوزخ سے نکال لیا جائے گا اور انہیں اللہ تعالیٰ جنت میں داخل کر دے گا۔(جیسا کہ جماعت احمدیہ کا عقیدہ ہے۔) ایک امیر آدمی بھی اس درس میں شامل تھا۔کہنے لگا، مولوی 662