تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 626 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 626

خطبہ جمعہ فرمودہ 12اکتوبر 1945ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد دوم لوگ کہتے ہیں کہ ان مسائل سے ہم نے اسلام میں تفرقہ پیدا کر دیا ہے۔مگر وہ یہ نہیں جانتے کہ بغیر ان مسائل کے تبلیغ ہوہی نہیں سکتی۔کتنا ہی گونگا احمدی کیوں نہ ہو، ان مسائل کی وجہ سے تبلیغ پر مجبور ہو جاتا ہے۔مولوی مبارک علی صاحب، جو جرمنی میں تبلیغ کے لئے گئے تھے، ان کے دل میں ہمیشہ مسئلہ کفر و اسلام کے متعلق شبہ رہتا تھا اور وہ خطوں میں اس کا ذکر کیا کرتے تھے۔میں انہیں جواب دیتا کہ ابھی ٹھہر جائیں ، جب ہندوستان میں آئیں گے تو دیکھا جائے گا۔ایک دفعہ ان کا خط آیا کہ اب مجھ کو کفر و اسلام کا سمجھ آ گیا ہے۔اور وہ اس طرح کہ یہاں قانون کے ایک بہت بڑے پروفیسر ہیں، اتنے بڑے کہ آسٹریلیا اور امریکہ کی یونیورسٹیاں بھی انہیں تقریروں کے لئے بلاتی ہیں۔میں نے ان کو مختلف مسائل بتائے ، جو ہمارے اور غیر مبائعین کے درمیان ما بہ النزاع ہیں مگر مسئلہ کفر و اسلام کا ذکر نہ کیا۔جو مسئلہ میں بیان کرتا ، وہ کہہ دیتے یہ تو معمولی بات ہے۔تمہاری چھوٹی سی جماعت ہے لیکن بڑی ایڈوانسڈ جماعت ہے تمہیں چاہیے کہ آپس میں مل کر تبلیغ کرو۔جب سارے مسائل ختم ہو گئے اور پھر بھی وہ یہی کہتے رہے۔آخر میں نے ڈرتے ڈرتے کہا کہ ایک اور مسئلہ بھی ہے، جس میں ان کا اور ہمارا اختلاف ہے۔اور وہ یہ ہے کہ وہ حضرت مسیح موعود کے نہ ماننے والوں کو مسلمان سمجھتے ہیں اور ہم لوگ حضرت مسیح موعود کے نہ ماننے والوں کو کافر سمجھتے ہیں۔اس پر وہ بڑے جوش میں آکر کہنے لگے، آپ نے یہ مسئلہ پہلے کیوں نہ بتایا؟ اس مسئلہ کی موجودگی میں اختلاف صحیح اور جائز ہے۔پھر کہنے لگے تمہارے پاس وہ چیز ہے، جس سے تم ترقی کر جاؤ گے اور پیغامی نہیں کریں گے۔تو حقیقت یہ ہے کہ یہ تبلیغ کے اعلیٰ درجہ کے گر ہیں۔اگر تم ان کے ساتھ مل کر نماز پڑھتے رہو گے تو کوئی یہ سوال نہیں کرے گا کہ تم کون ہو؟ اگر ان کے ساتھ مل کر جنازہ پڑھو گے تو کوئی یہ سوال نہیں کرے گا کہ تم کون ہو؟ لیکن اگر تم ان سے علیحدہ ہو کر نماز پڑھو گے، اگر ان کے جنازہ پر نہیں جاؤ گے تو وہ خود بخود پوچھیں گے کہ تم ہمارے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھتے ؟ اس صورت میں خواہ کوئی کتنا کمزور سے کمزور انسان کیوں نہ ہو، اسے بتانا پڑے گا کہ میں کون ہوں؟ میرا عقیدہ کیا ہے؟ اور میں کس لیے تمہارے پیچھے نماز اور جنازہ نہیں پڑتا۔اور اگر شادی بیاہ کا معاملہ ہوگا تو وہ بتلائے گا کہ یہاں شادی نہ کرنے کی یہ وجہ ہے کہ ہم احمدیوں میں شادی کو ترجیح دیتے ہیں یا یہ کہ میں اپنی لڑکی کا بیاہ غیر احمدیوں میں نہیں کر سکتا۔پس یہ ایسی چیزیں ہیں، جو کمزور سے کمزور ایمان والے احمدی کو بھی مجبور کر دیتی ہیں کہ وہ اپنے پوشیدہ خیالات کو ظاہر کر دے۔غرض ہمارے مسائل ایسے ہیں، جس سے تبلیغ کبھی رک نہیں سکتی۔تجارت فیل ہو سکتی ہے لیکن تبلیغ فیل نہیں ہوسکتی۔626