تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 625 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 625

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم خطبہ جمعہ فرمودہ 12 اکتوبر 1945ء کو آپ کی زندگی میں ہی غلبہ دے دیا جائے گا۔مگر ہمارے لئے یہ پیشگوئی ہے کہ ایک لمبے عرصہ کے بعد جا کر یہ چیز ہمیں ملے گی۔پس آج اس سے زیادہ قربانیوں کی ضرورت ہے جتنی پہلے زمانہ میں صحابہ نے کیں۔ہمیں اس وقت تجارت کرنے والے ہزاروں نوجوانوں کی ضرورت ہے۔چاہیے کہ وہ آگے آئیں اور اپنی زندگیاں وقف کریں۔جو تجربہ کارلوگ ہیں ، ان کے لئے ضروری ہے کہ زیادہ سے زیادہ ان لوگوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کی کوشش کریں۔باہر کی ایک جماعت نے مجھے بتایا کہ ایک دفعہ ایک غیر احمدی ہمارے ہاں آ کر احمدی ہو گیا۔جماعت نے چندسور و پیدا کٹھا کر کے اسے دیا تا کہ وہ اس سے تجارت کرے۔پچھلے سال اس نے ایک ہزار روپے سے زیادہ چندہ دیا ہے۔پس یہ ایسی چیز ہے، جس میں کامیابی یقینی ہوتی ہے۔اس میں شبہ نہیں کہ کم ہمت اور بے وقوف انسان اس میں نا کام بھی ہوتا ہے لیکن باہمت اور عقلمند انسان تجارت آسانی سے چلا لیتا ہے۔چاہے گزارے والی تجارت ہو، چاہے لاکھوں روپے والی ہو اور چاہے کروڑوں روپے والی ہو۔بہر حال جہاں احمدی بیٹھ جائے گا، وہاں خدا تعالیٰ کے دین کا ایک مبلغ بیٹھ جائے گا۔تجارت اس کی کامیاب ہو یا نہ ہو مگر تبلیغ اس کی کامیاب ہو جائے گی۔کیونکہ احمدیت کبھی چھپ نہیں سکتی۔مثلاً پہلا سوال نماز کا آئے گا۔اس کے پاس لوگ آئیں گے اور کہیں گے آپ کے آنے پر ہمیں بڑی خوشی ہوئی۔مسلمان یہاں بہت کم تھے مگر ہم نے آپ کو مسجد میں کبھی نہیں دیکھا۔دیکھو یہاں سے تبلیغ شروع ہو جائے گی۔وہ کہے گا، میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ماننے والا ہوں اور آپ ان کو نہیں مانتے۔اس لئے میں آپ کے پیچھے نماز نہیں پڑھ سکتا۔وہ پوچھیں گے مسیح موعود کیا ہوتا ہے؟ اس پر وہ بتائے گا، حضرت مسیح موعود کا یہ دعوی تھا۔وہ اس کا ثبوت پوچھیں گے اور اسے کہیں گے، ہمارے ساتھ چل کر ہمارے مولوی صاحب سے بات کرو کیونکہ ہم اس کے متعلق کچھ نہیں جانتے۔بس یہیں سے بحث شروع ہو جائے گی۔پھر جنازے کا سوال آجائے گا۔اس پر مذہبی بحث شروع ہو جائے گی۔اگر تا جر نو جوان ہوئے اور ان کے بیوی بچے نہ ہوئے تو ان میں سے کوئی کہے گا، آپ نے ابھی تک شادی نہیں کی ، ہم میں شادی کر لیں۔وہ کہے گا ، احمد بیت ہمارا مذہب ہے اور ہم تو شادی احمد یوں میں ہی کریں گے۔اور پھر بحث شروع ہو جائے گی۔پس یہ دو تین سوال ایسے ہیں کہ جن کی وجہ سے احمدیت کو چھپایا ہی نہیں جا سکتا۔جب کبھی نماز کا موقعہ آئے گا اور ہم ان کے ساتھ نماز نہیں پڑھیں گے یا اگر جنازہ کا موقع آئے گا اور ہم ان کے جنازے میں شامل نہیں ہوں گے یا شادی بیاہ کا معاملہ ہوگا اور ہم انکار کریں گے تو احمدیت کی بات شروع ہو جائے گی۔625