تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 627
تحریک جدید- ایک ابی تحریک۔۔۔۔۔جلد دوم خطبہ جمعہ فرمودہ 12 اکتوبر 1945ء میں بتا چکا ہوں، یہ تو ہمارے اختیار میں ہے کہ ہم تاجروں کو تبلیغ کے لیے باہر بھیج دیں لیکن تنخواہ دار مبلغ بھیجنا، ہمارے اختیار کی بات نہیں۔اس تجویز کے سامنے آجانے کے بعد ہم خدا تعالیٰ کو یہ جواب نہیں دے سکتے کہ ہمارے پاس چونکہ روپیہ نہ تھا، اس لئے ہم تبلیغ نہیں کر سکے۔خدا تعالیٰ کہے گا کہ میں نے حج سے متعلق جو مسئلہ بیان کیا تھا تمہیں اس پر عمل کرنا چاہیے تھا۔جیسے پنجابی میں کہتے ہیں نالے حج نالے بیوپار۔اس طرح خدا تعالیٰ کہے گا ، جب یہ صورت تمہیں بتلا دی گئی تھی تو اس صورت پر تم نے باہر اپنے مبلغ کیوں نہ بھیجے؟ اب بتاؤ، ہم کیا جواب دیں گے ؟ کیا یہ کہ ہماری طاقت سے باہر تھا ؟ خدا تعالیٰ کہے گا ، اگر جماعت کے نوجوان 17 روپے لے کر آسام اور عراق میں اپنی جانوں کو قربان کر سکتے تھے تو کیا وہ نجاری کا کام کر کے، موٹر کی مرمت کا کام کر کے، سائیکلوں کی مرمت کا کام کر کے، ڈرائیوری کا کام کر کے ، درزی کا کام کر کے یا کسی اور قسم کی تجارت کر کے احمدیت کی تبلیغ کا کام نہیں کر سکتے تھے؟ کیا کوئی بھی کہہ سکتا ہے کہ جو شخص سترہ روپے کے لئے جان دے سکتا ہے، وہ خدا تعالیٰ کے لئے تجارت نہیں کر سکتا ؟ اگر اس میں ایمان کا ایک ذرہ بھی باقی ہے تو خدا تعالیٰ کو وہ کس منہ سے کہے گا کہ میں تجھ پر ایمان رکھتا ہوں ؟ غرض اب تم پر حجت قائم ہو چکی ہے۔جب تک یہ راستہ تمہارے سامنے نہیں آیا تھا تم کہہ سکتے تھے ہمیں اس کا خیال نہیں آیا لیکن اب تمہارا یہ عذر بھی ٹوٹ گیا ہے۔اب خدا تعالیٰ تم سے کہے گا، میں نے اپنے ایک بندے کے دل میں یہ خیال پیدا کر دیا تھا اور اس نے تم کو اس سے آگاہ بھی کر دیا تھا۔غرض اب تمہارے لئے کوئی عذر باقی نہیں رہا۔حقیقت کھل گئی ہے اور باطل کو کچلنے کے راستے خدا تعالیٰ نے ظاہر کر دیے ہیں۔اگر اب بھی کوئی آگے نہیں بڑھے گا تو وہ بزدل اور غدار ہو گا۔چاہیے کہ تم میں سے ہر شخص آگے آئے اور اپنے اپنے رنگ میں اس بوجھ کو اٹھانے کے لئے تیار ہو جائے ، جس کے اٹھائے بغیر اسلام دوبارہ سرسبز و شاداب نہیں ہوسکتا۔مطبوعه الفضل 20 اکتوبر 1945 ء ) 627