تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 624
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد دوم خطبہ جمعہ فرمودہ 12 اکتوبر 1945ء یعنی ہماری موجودہ آمدن سے دو سو گنے زیادہ آمدن ہو تو یہ طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔ہم نے پچھلے تمہیں سال میں قریباً پندرہ ، ہیں گنا اپنی آمدن کو بڑھایا ہے۔فرض کرو ہم اس کو بہت زیادہ کریں تو پچاس یا سوسال میں جا کر ہم چو بیس کروڑ کی مرکزی آمدن پیدا کر سکیں گے۔(کیونکہ قریباً نصف کے قریب آمد بلا دو ممالک میں خرچ ہو جاتی ہے ) اور سو سال تک اتنے مبلغین کے لئے ہمیں انتظار کرنا پڑے گا۔لیکن اگر ہیں ہزار کنگال بھی اس تحریک پر کھڑے ہو جائیں یا کم سے کم پانچ ہزار آدمی کھڑے ہو جائیں تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ جو کام ہم سو سال میں کر سکتے تھے، اسے انشاء اللہ دو تین سالوں میں کر لیں گے۔یہ کتنی بڑی بات ہے؟ اگر ایسا ہو اور ہم میں سے ہر فرد اس کی اہمیت کو سمجھ تو چند سالوں میں حیرت انگیز تغیر پیدا ہوسکتا ہے۔جو پہلے سے تجارت کرنے والے ہیں، وہ یہ نہ سمجھیں کہ ان کے لئے چندہ دے دینا کافی ہے۔بلکہ انہیں چاہیے کہ پندرہ ، ہمیں نئے تاجروں کو اپنا پیشہ سکھائیں اور ان کی اخلاقی امداد کریں۔اور اگر ضرورت ہو اور ہو سکے تو مادی امداد بھی کریں۔اس طرح صدقہ جاریہ کے طور پر وہ ثواب حاصل کر سکتے ہیں۔میں حیران ہوں کہ ہمارے ہندوستان کے تاجروں میں یہ روح نہیں ، حالانکہ بیرونی ممالک میں یہ روح نمایاں طور پر پائی جاتی ہے۔افریقہ میں ایک شامی تاجر کو تحریک کی گئی۔ہم چاہتے ہیں کہ تجارت کا سلسلہ وہاں شروع کریں۔مغربی افریقہ میں وہ ایک ہی احمدی تاجر ہیں۔انہوں نے تار کے ذریعہ اسی وقت جواب دیا کہ آدمی فوراً بھیج دیں، میں اپنی جائیداد میں اس کو حصہ دار بنانے کو تیار ہوں اور اس کو اپنا حصہ دار بنانے کے لئے بھی آمادہ ہوں۔یہی روح ہے، جو قوموں کو ترقی کی طرف لے جاتی ہے اور یہی روح ہے، جو ہماری جماعت کے تاجروں میں ہونی چاہیے۔ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس شکایت ہوئی کہ آپ نے فلاں مہاجر کو فلاں انصاری کے سپر د کیا تھا، وہ اس سے کہتا ہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تم کو میرا بھائی بنا دیا ہے تو اب تم ہر چیز میں میرے شریک ہو۔میری دو بیویاں ہیں، تم ان میں سے جس کو چاہو، پسند کر لو۔میں اس کو طلاق دیتا ہوں۔جائیداد بھی نصف نصف بانٹنے کے لیے تیار ہوں مگر وہ مانتا ہی نہیں۔کجا یہ اخلاق کا نمونہ کہ صحابہ اپنے دین، اپنے تقویٰ اور اپنے ایمان کو مضبوط کرنے کے لئے اپنی بیویوں کو بھی طلاق دے کر اپنے بھائیوں کے سپرد کرنے کے لئے تیار تھے اور کج ہماری حالت ہے کہ ہم کسی بھائی کو تجارت کا ہنر سکھانے یا اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے قابل بنانے کے لئے بھی تیار نہیں ہوتے۔حالانکہ یہ ایک بہت مشکل کام ہے، جو ہمارے سپرد کیا گیا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہ پیشگوئی تھی کہ آپ کو 624