تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 603
تحریک جدید ایک ابی تحریک۔۔۔۔جلد دوم خطبه جمعه فرموده 05 اکتوبر 1945ء دین کی اشاعت کے لئے روپے کی ضرورت ہوتی ہے۔قرآن شریف میں صریح طور پر آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وقت یہ خواہشات لوگوں کے دلوں میں پیدا ہوتی تھیں کہ خدا تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے تاہم دین کے لئے جو روپے کی ضرورت ہو اس کو پورا کریں۔اس باب میں بعض منافقین کا ذکر آتا ہے۔منافقین کا ذکر اس لئے آتا ہے کہ انہوں نے وہ باتیں، جو انہوں نے کہی تھیں، پوری نہ کیں۔وہ یہ خواہش کرتے تھے کہ خدا تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم دین کے لئے روپیہ خرچ کریں۔مگر جب توفیق ملتی تھی تو کوتاہی کرتے تھے۔حدیثوں میں آتا ہے کہ ایک شخص نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ میرے لئے دعا کریں کہ مجھے مال مل جائے تا میں دین کی راہ میں خرچ کروں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس پر ناراض نہیں ہوئے بلکہ دعا فرمائی۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ خواہش کرنا منع نہیں بلکہ بہتر ہے۔کہتے ہیں کہ اس کا مال اتنا زیادہ ہو گیا کہ جس میدان میں اس کا گلہ کھڑا ہوتا تھا، معلوم ہوتا تھا کہ یہاں کسی کے لئے جگہ نہیں۔اس کے بعد جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زکوۃ کے لئے اس کے پاس آدمی بھیجا تو اس نے جواب میں کہا کہ ہر وقت چندے کی فکر رہتی ہے، میرے پاس جتنا مال ہے، گلے کو کھلانے کے لئے اور ان کے نگرانوں پر خرچ ہو جاتا ہے، چندہ کہاں سے دوں؟ چونکہ دعا کے ذریعہ اس کو یہ مال ملا تھا، رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے لئے یہ سزا تجویز فرمائی کہ آئندہ اس سے زکوۃ نہ لی جائے۔بعد میں اس کو نیکی کا خیال آیا مگر اس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فوت ہو چکے تھے۔وہ حضرت ابو بکر کے پاس آیا اور کہا کہ مجھ سے زکوۃ لے لیں۔حضرت ابو بکر نے کہا جس سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زکوۃ نہیں لی ، اس سے زکوۃ میں نہیں لے سکتا۔حالانکہ زکواۃ خدا تعالیٰ کا حکم ہے مگر باوجود اس کے کہ وہ دیتا تھا، آپ نہیں لیتے تھے۔تاریخ میں آتا ہے کہ وہ ہر سال زکوۃ میں ایک بہت بڑا گلہ لاتا تھا اور کہتا تھا مجھ سے زکوۃ نے لیں مگر حضرت ابو بکر ہر بار یہ کہتے کہ میں تمہاری زکوۃ نہیں لے سکتا کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمہاری زکو نہیں لی۔اور وہ یہ سن کر روتا ہوا چلا جاتا تھا۔سو یہ خواہش صحابہ کے دل میں بھی ہوتی تھی اور ہر ایک کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوتی ہے۔جب کسی کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ میں دین کی فلاں تحریک میں حصہ لوں اور دین کی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے روپیہ دوں اور اس کے پاس روپیہ نہیں ہوتا تو اس کے دل میں ابال اٹھتا ہے اور وہ یہ کہتا ہے کہ کاش میرے پاس روپیہ ہوتا تا میں بھی خرچ کرتا۔میں نے کئی دفعہ یہ مثال سنائی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات پر ایک دفعہ منشی اروڑ ا صاحب تشریف لائے اور کہلا بھیجا کہ وہ مجھ سے ملنا چاہتے ہیں۔میں باہر گیا تو انہوں نے مجھے پانچ یا دس پوند صحیح تعداد میں کسی اور وقت بتا چکا ہوں، اس وقت یاد نہیں ، مجھے دیئے اور کچھ کہنا چاہا مگر کہنے سے پہلے چھٹیں مار کر رو پڑے۔اتنا رونا یاد اور کچھ چاہامگر شروع کیا کہ ہچکی بند نہ ہوتی تھی۔میں پریشان کھڑا تھا کہ کیوں رو ر ہے ہیں؟ اگر پتہ ہو تو انسان خودان جذبات میں شامل ہو جاتا ہے۔مگر مجھے پتہ ہی نہیں تھا کہ کیوں رورہے ہیں؟ پانچ دس پاؤنڈ میرے ہاتھ پر رکھ کر رونے 603