تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 602
خطبہ جمعہ فرمودہ 05اکتوبر 1945ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد دوم یہ درست ہے کہ دین خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق پیدا کرنے کے لئے آتا ہے۔یہ بھی درست ہے کہ دین کا تعلق انسان کی روحانی اصلاح کے ساتھ ہوتا ہے۔مگر اس میں بھی شبہ نہیں کہ انبیاء جب کبھی دنیا میں پیدا ہوئے ہیں تو دین کو ماننے والے لوگوں کے حالات دینی طور پر ہی درست نہیں ہوئے بلکہ دنیوی طور پر بھی درست ہو گئے۔ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت نوح دین کو قائم کرنے کے لئے آئے اور ایک نیا نظام قائم ہوا۔جب حضرت موسی آئے تو ان کے ذریعہ ایک نیا نظام قائم ہوا۔جب حضرت داؤد آئے تو ان کے ذریعہ ایک نیا نظام قائم ہوا۔جب حضرت عیسی آئے تو ان کے ذریعہ ایک نیا نظام قائم ہوا۔جب حضرت زرتشت آئے تو ان کے ذریعہ ایک نیا نظام قائم ہوا۔حضرت کرشن آئے تو ان کے ذریعہ ایک نیا نظام قائم ہوا اور سب سے آخر سب نبیوں کے سردار رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو ان کے ذریعہ ایک نیا نظام قائم ہوا۔انہوں نے بنی نوع انسان کو خدا تعالیٰ سے ہی نہیں ملایا اور روحانیت کو ہی درست نہیں کیا بلکہ اس کے ساتھ لازمی نتیجہ کے طور پر طبعی نتیجہ کے طور پر اور عقلی نتیجہ کے طور پر آپ کی جماعت دنیا میں بھی ترقی کر گئی۔دنیا میں نبی آتے ہیں تو دنیوی نظام کی ترقی کے لئے کیا کہتے ہیں؟ یہی کہ اپنے کھانے پینے کی طرف زیادہ توجہ نہ کرو، اپنے وقتوں کو ضائع نہ کرو، اپنے دماغوں کو ضائع نہ کرو، لہو و لعب میں اپنا وقت نہ لگاؤ، جہالت اور تاریکی سے دور بھا گو۔اور یہی چیزیں دنیوی ترقی کے لئے بھی ضروری ہیں۔جس قوم میں یہ چیزیں پیدا ہو جائیں، وہ لازمی طور پر دنیا میں ہی ترقی کر جاتی ہے۔جو نبی کہے گا سستی نہ کرو، جہاد کا موقعہ آئے تو اپنے آپ کو آگے پیش کرو۔جہاد تو ہر وقت نہیں ہوتا مگر طالب علم کے لئے پڑھائی کا موقع ہر وقت ہوتا ہے۔جو جہاد کے موقعہ پر اپنے آپ کو پیش کرے گا، وہ پڑھائی کے وقت بھی کسی سے پیچھے نہیں ہو گا۔جب نبی کہے گا تم جہالت سے دور ہو ، محنت کرو۔تو لازمی بات ہے کہ وہ جہاد کے وقت بھی جہاد میں آگے بڑھے گا اور جنگ کا ہنر اچھی طرح سیکھے گا لیکن اس عادت کے ہوتے ہوئے جہاد سے فارغ ہو کر ہل چلاتے وقت بھی تو یہ نصیحت کام آئے گی۔وہ کھیتی باڑی کا ہنر بھی سیکھے گا اور محنت سے کام کرے گا۔اسی طرح تجارت میں چستی اور ہمت سے کام لے گا۔جس کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ علم حاصل کرو، قرآن کریم کو پڑھو۔وہ قرآن کو بھی پڑھے گا لیکن آخر اس نے سارا وقت تو قرآن کریم نہیں پڑھنا، اس میں جو لکھا ہے کہ تم جغرافیہ پر غور کرو، تاریخ پر غور کرو، آسمان پر غور کرو، زمین پر غور کرو، اقتصادیات پر غور کرو۔وہ ان سب پر غور کرے گا۔تو لازمی بات ہے کہ وہ صرف قرآن شریف ہی نہیں پڑھے گا بلکہ ساتھ ہی تاریخ اور گا جغرافیہ بھی پڑھے گا۔تو گو براہ راست یہ چیزیں متصور نہیں ہوتیں مگر دین کے ساتھ ان کو وابستگی ضرور ہے۔602