تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 604 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 604

خطبہ جمعہ فرمودہ 05اکتوبر 1945ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد دوم لگ پڑے۔کچھ دیر بعد میں نے یہ سمجھ کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کی وجہ سے رور ہے ہیں، کہنا شروع کیا منشی صاحب صبر کریں، اللہ تعالیٰ کی مرضی یہی تھی۔میرے منع کرنے پر بجائے ہچکی بند ہونے کے، وہ زیادہ زور سے رونے اور چیخنے لگے اور روتے چلے گئے۔کچھ دیر بعد آخر چپ ہو گئے اور کہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریکات کے مواقع پر دل میں خیال ہوتا تھا کہ میں کافی مقدار میں سونا لے کر حضور کی خدمت میں حاضر کروں۔لیکن جب بھی میرے پاس پانچ سات روپے جمع ہو جاتے ، مجھ سے رہا نہ جاتا اور میں قادیان چل پڑتا۔قادیان آکر حضور سے مل کر نذرانہ پیش کر دیتا۔اسی طرح دن گزرتے گئے۔ہمیشہ خواہش ہوئی کہ سونا پیش کروں مگر ہمیشہ ہی جب پانچ ، چھ روپے جمع ہو جاتے تو برداشت نہ ہوتا تھا اور میں قادیان آجا تا تھا۔ان کی تنخواہ شروع میں دس، پندرہ روپے ہوتی تھی۔کتنا بھی کم خرچ کرو، اتی تنخواہ میں سے ایک دورو پے ہی بچائے جا سکتے ہیں۔پس پانچ ، چھ روپے جمع ہونے میں کئی ماہ لگ جاتے تھے۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے قریب وہ تحصیلدار ہو گئے۔اس وقت انہوں نے روپیہ جمع کرنا شروع کیا اور ان کو پاؤنڈوں میں تبدیل کرنا شروع کیا۔چنانچہ انہوں نے بتایا کہ جب میں نے کچھ پاؤنڈ جمع کئے تو حضرت صاحب فوت ہو گئے۔اتنا کہہ کہ وہ پھر رونے لگ گئے پھر کئی منٹ تک روتے رہے۔آخر اپنے نفس پر قابو پایا اور یہ فقرہ کہا۔جب تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام زندہ تھے تو میرے پاس سونا نہ آیا اور جب میرے پاس سونا آیا تو وہ فوت ہو گئے۔یہ کہہ کر پھر رونا شروع کر دیا اور ان سب باتوں میں تقریباً نصف گھنٹہ لگ گیا۔پھر انہوں نے آخر میں کہا۔اب میری طرف سے یہ حضرت ام المومنین کو دے دیں۔اب میں یہ رقم ان کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔تو مومن کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوتی ہے۔اور یہ لازمی اور کی میں کرتا دل میں یہ یہ اور قدرتی بات ہے، جب ہمیں یہ نظر آرہا ہے کہ دین کی تکہ بوٹی اڑائی جارہی ہے، جب ہمیں یہ نظر آرہا ہے کہ دین کی بے عزتی کی جارہی ہے، جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دین کے ساتھ یہ سلوک کیا جاتا ہے تو اس کے بعد کسی انسان کا دل کس طرح تراپ سے خالی رہ سکتا ہے کہ خدا تعالی مجھے توفیق دے تو میں دین کی خوب خدمت کروں؟ پس ہمیں چاہئے کہ جہاں ہم دین کی ترقی کے لئے کوشش کریں، وہاں دنیوی ترقی کے لئے بھی سامان مہیا کریں اور ان سامانوں کو مہیا کرنے کے لئے ہماری جماعت کی طرف سے کوشش ہوتی رہتی ہے۔اس کے لئے ایک محکمہ بنا ہوا ہے۔جہاں کہیں کوئی نوکری خالی ہوتی ہے اور اسے اس کا پتہ لگتا ہے تو محکمہ کوشش کرتا ہے کہ کوئی احمدی وہ جگہ لے لے۔بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ یہ خود غرضی کے ماتحت کیا گیا ہے۔اگر ہمیں پندرہ کی بجائے ہیں ملے ہیں تو جماعت کے چندے میں بھی تو اضافہ ہوا ہے۔اگر کوئی شخص اسے خود غرضی قرار دیتا ہے تو دوسرے الفاظ میں وہ یہ کہتا ہے کہ مجھے دین سے محبت نہیں تمہیں دین۔محبت ہے۔اس میں ہماری عزت ہے نہ کہ بے عزتی لیکن اگر وہ یہ کہتا ہے کہ خود غرضی نہیں کی گئی بلکہ یہ کام 604