تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 601
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد دوم خطبہ جمعہ فرمود : 105 اکتوبر 1945ء مولوی محمد علی صاحب کے گھر میں سب کو معلوم تھا۔یہ کتنا ظلم ہے کہ باوجود انہیں اس امر کے معلوم ہونے کے کہ جو خواب میں نے بتائی ہے، اس کا مضمون سب کو معلوم ہے، اس وقت یہ لوگ خاموش رہے اور اس کی تردید نہ کی؟ چاہیے تھا کہ اس وقت کہتے کہ یہ لغو بات ہے، یہ تو ہو کر ہی رہے گی کیونکہ اس کا علم پہلے سے ہر اک کو ہے۔لیکن اس وقت تو خاموش رہے اب بعد میں کہہ رہے ہیں ، سب کو معلوم تھا۔تو بعض دفعہ ایک خبر شائع ہوکر ، چاہے چھوٹی ہو، بھاری ہو جاتی ہے۔اگر ہماری جماعت کے لوگ میری بات کی قدر کرتے اور کھدر پہننا شروع کر دیتے اور یہ نہ سمجھتے کہ یہ دنیوی بات ہے، کیا ہوا اگر دو روپے کی بجائے تین روپے کا لٹھا لے لیا ؟ اس میں دین کا کیا نقصان ہے؟ ہم نے اپنی ذات پر ہی روپیہ خرچ کرنا ہے، دوروپے کی بجائے تین روپے کپڑے پر خرچ کر لئے اور ایک روپیہ جو خوراک پر خرچ کرنا تھا، خوراک پر خرچ نہ کیا، کپڑے پر کر لیا تو کیا ہوا ؟ اگر وہ ایسا نہ کرتے اور ہزار ہا آدمی کھدر پہنے پھرتے تو آج دنیا پر اس کا اتنا اثر ہوتا کہ جس کی کوئی حد ہی نہیں۔تو بعض اوقات لوگ دنیوی بات سمجھ کر اسے رد کر دیتے ہیں اور اس کی اہمیت کو نہیں سمجھتے۔اسی قسم کی وہ بات بھی ہے جو میں آج بیان کرنا چاہتا ہوں۔اگر مجھے اس کے متعلق بولنے کی توفیق ملی کیونکہ اتنا بولنے کے ساتھ ہی میرے دانت میں درد شروع ہو گئی ہے۔جماعتی ترقیاں جہاں اس بات کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں کہ سچائی اس قوم میں موجود ہو، جہاں اس بات کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں کہ دلائل اس قوم میں موجود ہوں، جہاں اس بات کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں کہ تبلیغ اس قوم میں موجود ہو اور جہاں اس بات کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں کہ عمل اس قوم میں موجود ہو، وہاں دنیا اس کے علاوہ کچھ اور بھی چاہتی ہے۔صرف یہی کافی نہیں ہوتا کہ سچائی ہو، ضروری نہیں کہ سچائی دنیا میں ہمیشہ جیت جائے۔ہزارہا دفعہ سچائی مٹ جاتی ہے۔قرآن کریم سچا تھا جھوٹا نہیں تھا مگر کس طرح گزشتہ دوصدیوں میں عیسائیت کے مقابلہ میں ہر میدان میں اسے شکست ہوئی اور عیسائیت غالب ہو گئی۔اس لئے کہ قرآن مجید میں سچائی تو موجود تھی لیکن اسے سمجھ کر اس سے دلائل نکالنے کا کام مسلمانوں نے چھوڑ دیا تھا۔اور جو تھوڑے بہت دلائل تھے چونکہ موجودہ زمانے کے اعتراضات کے رد کے لئے کافی نہ تھے، اس لئے اسلام عیسائیت جیسے کمزور مذہب کے مقابل میں شکست کھا گیا۔اور اگر دلائل بھی مہیا ہو جاتے اور بعض نے مہیا کئے بھی تو دوسری چیز مبلغ ہوتے ہیں اور مبلغین سے اسلام خالی تھا۔پھر اگر چند مبلغ تھے تو یہ بے عمل تھے۔دنیا کی نگاہ دلائل کو ہی نہیں دیکھا کرتی بلکہ عمل کو بھی دیکھتی ہے۔601