تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 573 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 573

تحریک جدید- ایک ابی تحریک۔۔۔جلد دوم اقتباس از خطبہ جمعہ فرموده 22 جون 1945ء کیا خدا تعالیٰ کے نشانات ، اس کے تازہ بتازہ معجزات اور اس کی تائید اور نصرت کے متواتر واقعات سے مومنوں کو اسی طرح فائدہ اٹھانا چاہئیے ؟ یاد رکھو خدا تعالیٰ کے نشانات جہاں بہت بڑی رحمت کا موجب ہوتے ہیں، وہاں بہت بڑے ابتلاء کا بھی موجب ہوتے ہیں۔اگر انسان ان نشانات کی قدر کرے تو اس کا ایمان زمین سے آسمان پر پہنچ جاتا ہے اور اگروہ ان نشانات کی قدرنہ کرے اور ان سے فائدہ نہ اٹھائے تو اس کا ایمان آسمان سے زمین پر آ گرتا ہے۔پس میں جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ان نشانات سے فائدہ اٹھائے ، اپنے ایمانوں کو مضبوط بنائے اور پہلے سے زیادہ قربانیاں کرنے کی کوشش کرے۔کیونکہ اب اس کی ذمہ داریاں پہلے سے بہت بڑھ گئی ہیں اور خدا نے اس پر حجت تمام کر دی ہے۔اگر اب بھی کوئی شخص توجہ نہیں کرے گا تو وہ گھڑا گھڑایا اور بنابنایا مجرم خدا تعالیٰ کے سامنے پیش ہو گا۔وہ لوگ جنہوں نے خدا تعالیٰ کے نشانات نہیں دیکھے، وہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم کیا کریں؟ ہم نے تو اپنی آنکھ سے خدا تعالیٰ کا کوئی نشان نہیں دیکھا۔وہ لوگ جن پر ایک لمبا عرصہ گزر چکا ہے اور گوکسی پہلے زمانہ میں انہوں نے خدا تعالیٰ کے نشانات کو دیکھا ہومگر اب ایک لمبے زمانہ سے انہوں نے کسی نشان کو نہیں دیکھا ، وہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نشان پر ایک عرصہ دراز گزر چکا ہے۔اب ہمارے دلوں پر زنگ لگ گیا ہے اور ہم میں قربانی کرنے کی روح نہیں رہی۔لیکن وہ جماعت، جس کے سامنے خدا تعالیٰ نے اپنے تازہ بتازہ نشانات دکھائے ہیں اور اب بھی دکھا رہا ہے ، وہ خدا تعالیٰ کو کیا جواب دے سکتی ہے؟ اس کے ایمان میں تو اتنی تیزی اور شدت ہونی چاہئے کہ کوئی بات اس کو سست کرنے والی نہ ہو۔ہر قدم اس کا آگے بڑھے اور اس طرح دیوانہ وار وہ خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت کے لئے کھڑی ہو جائے کہ اسے اپنی زندگی اور اپنی موت دونوں یکساں معلوم ہوں بلکہ موت اسے زندگی سے زیادہ شیریں اور لذیذ معلوم ہو کیونکہ موت میں مومن اپنے یار کے دیدار کو دیکھتا ہے۔صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف دیکھو، انہوں نے دین کے لئے کیسی کیسی قربانیاں کیں؟ حضرت ضرار بن اسود ایک مخالف جرنیل کے مقابلہ میں اس سے لڑنے کے لئے نکلے، وہ کئی مسلمانوں کو ید کر چکا تھا۔جب یہ اس کے سامنے ہوئے تو فوراً بھاگے اور دوڑتے ہوئے اپنے خیمہ کی طرف چلے گئے۔یہ دیکھ کر صحابہ میں سخت بے کلی اور بے چینی کی لہر دوڑ گئی کہ اب عیسائیوں کے سامنے ہماری کیا عزت رہ جائے گی ؟ کمانڈر انچیف نے فوراً ان کے پیچھے اپنا آدمی دوڑایا اور کہا کہ پتہ لوضرار کیوں بھاگے ہیں؟ ہ گیا تو اس وقت ضرار اپنے خیمہ سے باہر نکل رہے تھے۔اس شخص نے کہا ضرار آج تم نے کیا کیا ؟ وہ 573