تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 572
اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 22 جون 1945ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد دوم پر بھی گئے ہو؟ میں نے کہا ہاں جناب کئی دفعہ جاتا ہوں۔کہنے لگے کیا تم نے دیکھا کہ قصاب کچھ دیر گوشت کاٹنے کے بعد چھریوں کو آپس میں رگڑ لیتا ہے؟ آپ فرماتے تھے، میں نے کہا، میں نے ایسا کئی بار دیکھا ہے۔انہوں نے کہا جانتے ہو وہ چھریاں آپس میں کیوں رگڑتا ہے؟ اس لئے رگڑتا ہے کہ چربی میں جب بار بار چھری جاتی ہے تو کند ہو جاتی ہے اور ضرورت ہوتی ہے کہ اسے تیز کیا جائے۔چنانچہ جب دو چھریاں آپس میں رگڑی جاتی ہیں تو وہ دونوں تیز ہو جاتی ہیں۔یہ مثال دے کر فرمانے لگے، ہمارا دماغ بھی دنیوی کاموں میں مشغول رہنے کی وجہ سے کند ہو جاتا ہے اور تمہارا دماغ بھی کند ہو جاتا ہے۔کبھی کبھی آجایا کرو تا کہ ہم بھی اپنی چھریاں آپس میں رگڑ لیا کریں اور میرا اور تمہارا ذ ہن دونوں تیز ہوتے رہیں۔تو متواتر سابقون الاولون کے الفاظ کو اخبار میں دہراتے رہنا اثر کو کم کر دیتا ہے اور آخر کثرت استعمال کی وجہ سے سابقون الاولون کے معنی جاتے رہتے ہیں۔کام کرنے کا طریق یہ ہوتا ہے کہ تنظیم کی جائے۔مگر انہوں نے جماعتوں میں اپنے سیکرٹری مقرر نہیں کئے اور اگر گئے ہیں تو وہ ست ہیں۔چاہئے تھا کہ ان کو ہوشیار کیا جا تایا بدلوایا جاتا مگران کو بدلوانے کی بھی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔آٹھ سو جماعتوں میں صدرانجمن احمدیہ کے آدمی کام کرتے ہیں اور وہ اپنے چندوں میں برابر ترقی کر رہے ہیں۔بے شک ان کے انسپکٹر بھی ہیں لیکن سیکر ٹریان تحریک جدید کو بھی انسپکٹروں کے ذریعہ چست کیا جا سکتا تھا۔مگر دفتر والوں نے اس بارہ میں اپنی ذمہ داری کو قطعا محسوس نہیں کیا۔پس اس چندہ کی عدم وصولی میں زیادہ تر دفتر والوں کی کوتاہی ہے۔اگر جماعت کی کوتاہی ہوتی تو صدرانجمن احمد یہ کے چندوں پر بھی اس کا اثر پڑتا مگر ان کے چندوں پر اس کا اثر نہیں پڑا۔پس میں اس کا الزام دفتر والوں کو دیتا ہوں۔مگر میں سمجھتا ہوں جماعت بھی اپنی ذمہ داری سے پوری طرح بری نہیں۔میں نے بتایا تھا کہ کام کرنے کا وقت اب آیا ہے اور یہی وہ سال ہے، جس میں اخراجات پہلے سے کئی گنا بڑھ گئے ہیں۔کچھ مبلغ باہر جاچکے ہیں اور کچھ مبلغ تیار ہیں، جو عنقریب تبلیغ کے لئے غیر ممالک میں روانہ ہونے والے ہیں۔اگر ایسے وقت میں جماعت اپنی ذمہ داری کو پوری طرح نہ سمجھے تو کس قدر افسوس کا مقام ہو گا۔یہ بالکل ویسی ہی بات ہوگی جیسے کوئی شخص اپنے معشوق سے ملنے کے لئے ایک لمبے فاصلہ سے دوڑتا چلا آئے مگر جب اس کے دروازہ پر پہنچ جائے تو ڈیوڑھی میں ہی بیٹھ جائے اور اندر داخل ہونے کی کوشش نہ کرے۔جو افسوس ایسے شخص کو ہوگا، وہی حال ان لوگوں کا ہے، جنہوں نے دس سال قربانی کی مگر جب عملی طور پر کام کرنے کا وقت آیا اور خدا تعالیٰ کے سپاہی میدان جنگ میں کام کرنے کے لئے نکل کھڑے ہوئے تو وہ ہمت ہار کر بیٹھ گئے۔572