تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 574 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 574

اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 22 جون 1945ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد دوم تمہارے اس فعل کے نتیجہ میں آج سارے اسلامی لشکر کی گردنیں جھکی ہوئیں ہیں کہ اسلام کا سپاہی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا صحابی میدان جنگ سے بھاگ گیا۔حضرت ضرار نے کہا ہاں تم نے یہی سمجھا ہوگا۔مگر بات یہ ہے کہ جب کئی مسلمان یکے بعد دیگرے اس جرنیل کے ہاتھ سے مارے گئے تو میں نے فیصلہ کیا کہ اب میں اس کے مقابلہ میں نکلوں گا۔مگر جب میں اس کے سامنے کھڑا ہوا تو مجھے یاد آ گیا کہ میں نے کرتے کے نیچے لوہے کی زرہ پہنی ہوئی ہے۔اس وقت میرے دل نے مجھے کہا کہ ضرار کیا یہ زرہ تو نے اس لئے پہن رکھی ہے کہ یہ بڑا بھاری جرنیل ہے، ایسا نہ ہو کہ تو اس کے ہاتھ سے مارا جائے؟ کیا خدا کے ملنے سے تو ڈرتا ہے کہ زرہ پہن کر لڑنے کے لئے آیا ہے؟ جب میرے دل نے مجھ سے یہ کہا تو میں نے سمجھا اگر میں اس وقت مارا گیا تو میں جہنم میں جاؤں گا کیونکہ اللہ تعالیٰ مجھے کہے گا کہ معلوم ہوتا ہے کہ تجھے ہم سے ملنے کی خواہش نہیں تھی۔چنانچہ میں دوڑتا ہوا واپس چلا گیا تا کہ میں زرہ اتار آؤں اور اس کے بغیر اس کا مقابلہ کروں۔چنانچہ انہوں نے اپنا کر نہ اٹھا کر بتایا کہ دیکھ لو میں زرہ اتار کر آیا ہوں۔اس کے بعد وہ اس کے مقابلہ کے لئے نکلے اور اللہ تعالیٰ نے ایسا فضل کیا کہ انہوں نے اسے مارلیا تو مومن موت کو اپنی زندگی سے بھی پیارا سمجھتا ہے۔جس چیز کو لوگ ہلاکت سمجھتے ہیں ، مومن اسے اپنے لئے برکت کا باعث سمجھتے ہیں اور جس چیز کو لوگ تباہی کا موجب سمجھتے ہیں، مومن اسے اپنی ترقی کا موجب سمجھتے ہیں۔پس جہاں میں مرکز کے کارکنوں کو توجہ دلاتا ہوں اور ان کی غفلت اور کوتا ہی پرانہیں ملامت کرتے ہوئے ، انہیں صحیح طور پر کام کرنے کی نصیحت کرتا ہوں ، وہاں میں جماعتوں کو بھی ملامت کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ انہوں نے اپنے فرائض کو صحیح طور پر ادا نہیں کیا اور عین اس موقعہ پر جبکہ ہم لڑائی کے لئے تیاری کر رہے تھے، انہوں نے ہماری طبیعتوں کو مشوش کر دیا اور ہمارے وقتوں کو اس عظیم الشان کام کی بجائے اور کاموں کے لئے خرچ کروانے لگی۔اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کو تو فیق عطا فرمائے کہ وہ اپنی کوتاہیوں اور غفلتوں کو دور کرے اور خدا تعالیٰ کے تازہ نشانات ، جو اس کے سامنے ظاہر ہو رہے ہیں، ان سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، وہ اپنے ایمان اور اپنے اخلاص کو بڑھاتی چلی جائے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ ہمارے کارکنوں کو اس بات کی توفیق عطا فرمائے کہ وہ سستی اور غفلت کو چھوڑ کر صحیح طریقوں پر عمل کرتے ہوئے اسلام کو اس کی صحیح بنیادوں پر قائم کر دیں۔تا کہ دونوں گروہ اس کے حضور سر خرو ہوں اور دونوں گروہ اس کے حضور ثواب کے مستحق ہوں۔(مطبوعہ الفضل 25 جون 1945ء) 574