تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 552 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 552

اقتباس از خطبہ جمعہ فرموده 08 مئی 1945ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم موجودہ زمانہ میں یہی فرق ہمارے اور دوسرے لوگوں کے اندر ہے کہ ہمیں خدا تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق اپنی فتح کے متعلق یقین ہے۔مگر ان لوگوں کے اندر مایوسی ہے۔لیکن باوجود مایوسی کے وہ لوگ قربانیاں کرتے ہیں۔جرمنوں کو ہی دیکھ لو۔ان کی پچھلے چھ ماہ کی لڑائی مایوسی والی تھی۔مگر جتنی قربانی انہوں نے اس چھ ماہ میں کی ہے، اتنی قربانی انہوں نے پہلی ساری جنگ میں بھی نہیں کی۔وہ جانتے تھے کہ اس لڑائی کا نتیجہ ہمارے حق میں نہیں ہوگا۔مگر پھر بھی انہوں نے کہا کہ اگر جنگ کا نتیجہ ہمارے حق میں نہ ہوا تو کیا ہے؟ ہم دشمن کی قید میں رہ کر ذلت کی زندگی گزارنے سے جنگ میں مرجانا بہتر سمجھتے ہیں۔چنانچہ کہا جاتا ہے، پچھلے چند ہفتوں میں دس لاکھ جرمن مارے گئے اور بعض اس سے بھی زیادہ کہتے ہیں۔بعض دفعہ ایک ایک محاذ پر ایک ایک دن میں پچاس پچاس، ساٹھ ساٹھ ہزار آدمی مارا گیا۔مگر ان حالات میں بھی وہ لڑتے گئے کہ اگر ہم مارے گئے تو کیا ہوا؟ ہم مر جانا بہتر سمجھتے ہیں مگر دشمن کے ماتحت رہنا پسند نہیں کرتے۔پس میں سمجھتا ہوں کہ اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے امید نہ بھی دلائی گئی ہو کہ تم نے جیتنا ہے تو قربانی کے لئے صرف یہی چیز کافی ہے کہ انسان دشمن کی قید اور ماتحتی میں رہنا پسند نہ کرے۔مگر ہمارے لئے تو ایک زائد چیز ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم دین کے لئے قربانیاں کرو گے تو تمہاری وہ قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی بلکہ ان کے بدلہ میں خدا تعالیٰ اسلام کو دنیا میں پھیلا دے گا۔پس ہمارے لئے تو قربانی کے محرکات اور موجبات بہت زیادہ ہیں اور ہمارا مقصد بہت اعلیٰ ہے اور ہمیں اپنی کامیابی اور فتح کے متعلق یقین ہے۔پھر کیا وجہ ہے کہ ہم دنیا والوں سے زیادہ یا کم از کم اتنی قربانیاں نہ کریں۔خدا تعالیٰ ہمارے ساتھ احدی الحسنین کا وعدہ فرماتا ہے کہ اگر تم جیت گئے تو پھر تو تمہاری فتح ہے ہی لیکن اگر تم دین کی لڑائی میں مارے گئے تو سیدھے جنت میں جاؤ گے۔گویا دونوں صورتوں میں ہمارے سامنے بہت بڑا مقصد اور دونوں صورتوں میں ہمیں امید اور یقین ہے، غالب ہونے کی صورت میں بھی اور مرنے کی صورت میں بھی۔پس ہمارے نوجوانوں کو چاہئے کہ اس دنیوی جنگ میں لوگوں نے جو قربانیاں کی ہیں، ان کا بغور مطالعہ کریں اور پھر اپنے آپ کو دین کی جنگ کے لئے اس سے بھی زیادہ قربانیاں کرنے کیلئے تیار کریں“۔مطبوع الفضل 06 جون 1945ء) 552