تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 551 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 551

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 08 مئی 1945ء دنیوی جنگ کے مقابلہ میں دینی جنگ کے لئے زیادہ قربانیاں کریں ملفوظات فرمودہ 08 مئی 1945ء ”یہاں ہمارے نوجوان کا لجوں کے بھی اور سکولوں کے بھی بیٹھے ہیں۔میں ان کو توجہ دلاتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے وہ حیرت انگیز تغیر ظاہر فرما دیا ہے، جس کی بنیاد آج سے دس سال پہلے تحریک جدید کے ذریعہ رکھی گئی تھی۔دنیا کی لڑائی کا اب خاتمہ ہو چکا ہے اور خدا تعالیٰ نے دین کی لڑائی کا راستہ کھول دیا ہے۔ہمارے نو جوانوں کو چاہئے کہ جو قربانیاں دنیا والوں نے اس جنگ میں کی ہیں ، ان کا بغور مطالعہ کریں اور اپنے آپ کو دین کی بڑائی کے لئے اس سے زیادہ قربانیاں کرنے کے لئے تیار کریں۔دنیوی جنگ کو دیکھ لو، یہ کس رنگ میں اچانک ختم ہوئی ہے؟ دنیوی جنگ میں انسان کو بسا اوقات فتح کی امید نہیں ہوتی مگر پھر بھی وہ قربانی کرتا ہے۔مگر دین کی جنگ کے بارے میں مومنوں کو اپنی فتح اور کامیابی کا یقین ہوتا ہے۔قرآن مجید میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ مومنوں کو بعض دفعہ تکلیف پہنچتی ہے تو بعض مومن گھبرا جاتے ہیں اور منافق طبع لوگ شور مچانا شروع کر دیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔وَلَا تَهِنُوا فِى ابْتِغَاءِ الْقَوْمِ اِنْ تَكُونُوا تَأْلَمُونَ فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُوْنَ كَمَا تَأْلَمُوْنَ وَتَرْجُونَ مِنَ اللهِ مَا لَا يَرْجُونَ وَكَانَ اللهُ عَلِيمًا حَكِيمًان (نساء رکوع 15) تم دیکھو جو تکلیف تم کو پہنچ رہی ہے، یہ صرف تمہیں ہی نہیں بلکہ تمہارے دشمنوں کو بھی پہنچ رہی ہے۔یہ نہیں کہ تمہارا مال خرچ ہوتا ہے اور ان کا نہیں ہوتا یا تمہارے آدمی مرتے ہیں اور ان کے نہیں مرتے۔بلکہ مال ان کا بھی خرچ ہوتا ہے اور تمہارا بھی۔آدمی ان کے بھی مرتے ہیں اور تمہارے بھی۔پس جہاں تک دنیوی تکلیف کا سوال ہے، اس میں تم دونوں برابر ہو۔مگر ایک چیز میں فرق ہے اور وہ یہ کہ تمہارے دشمنوں کے اندر شک ہے اور انہیں اپنی فتح کا یقین نہیں مگر تمہیں یقین ہے کہ فتح تمہاری ہوگی۔تو جب باوجود شک کے وہ قربانیاں کرتے ہیں تو تم اپنی کامیابی کے متعلق یقین رکھتے ہوئے قربانیوں سے کیوں گھبراتے ہو ؟ پس تم دونوں میں یہ امتیاز ہے کہ وہ لڑتے ہیں مایوسی کے ساتھ اور تم لڑتے ہو یقین کے ساتھ کہ ہم نے بہر حال جیتنا ہے۔اور تمہارے اندر وہ امید ہے، جوان کے اندر نہیں۔551