تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 527 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 527

تحریک جدید - ایک البی تحر یک۔۔۔جلد دوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 19 جنوری 1945ء عجب طرح کی ہوئی تسلی جو بار اپنا گدھوں پہ ڈالا میں تو سمجھتا ہوں کہ یہی حال ہماری جماعت کے ایک حصہ کا ہے کہ وہ شاید یہ سمجھتے ہیں کہ تبلیغ کرنا مبلغوں کا کام ہے، ہم اس کام سے آزاد ہیں۔حالانکہ یہ بالکل غلط ہے۔خدا تعالیٰ تم سے تمہاری جانوں کا مطالبہ کرتا ہے اور وہ اس صورت میں کہ اپنی اولادیں دین کی خاطر وقف کرو۔اگر تم دین کے لئے اپنی اولا دیں دینے کے لئے تیار نہیں ہو گے تو خدا تعالیٰ تمہاری اولادیں شیطان کو دے دے گا۔یادرکھو دنیا میں کسی کی اولاد اس کے پاس نہیں رہتی۔اگر تمہاری اولاد خدا کی ہو کر نہیں رہے گی تو وہ شیطان کی ہو جائے گی۔اگر تمہاری اولادمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے رستہ میں اپنی جانیں نہیں دے گی تو وہ ابلیس کے رستہ میں مرے گی ( العیاذ باللہ ) مگر موت بہر حال ہر ایک پر آتی ہے۔پس اب وقت آگیا ہے کہ ہماری جماعت کا ہر فرد حالات پر غور کرے اور اس بات کی طرف توجہ کرے کہ ان میں سے جو بڑی عمر کے لوگ ہیں اور وہ نئے سرے سے تعلیم حاصل نہیں کر سکتے۔وہ کمائیں، ان کے لئے جو پڑھتے ہیں۔دوسرے جو پڑھے ہوئے ہیں ، وہ آگے آئیں اور اپنے آپ کو دین کی خدمت کے لئے وقف کریں اور دینی تعلیم حاصل کرنے کے لئے ہر سال کم از کم ایک سو طالب علم مدرسہ احمدیہ میں داخل ہوں تا کہ ہمیں ہزاروں کی تعداد میں مبلغ مل سکیں۔میں نے اپنے خطبات میں بتایا ہے کہ ہمیں کئی قسم کے آدمیوں کی ضرورت ہے۔ہمیں ضرورت ہے عربی یا انگریزی کے گریجوایٹوں کی ، جو اپنے آپ کو دین کی خدمت کے لیے وقف کریں اور دو تین سال میں ہم انہیں سلسلہ کے کاموں یا بیرونی تبلیغ کے لئے تیار کر سکیں۔ہمیں ضرورت ہے مڈل پاس یا انٹرنس پاس طالب علموں کی ، جو فورا سینکڑوں کی تعداد میں آکر مدرسہ احمدیہ میں داخل ہوں اور پھر آٹھ نو سال تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد بطور مبلغ کام کرسکیں۔ہمیں ضرورت ہے ایسے نو جوانوں کی ، جو پرائمری پاس یا مڈل پاس ہوں اور ہم انہیں ایک دو سال میں موٹی موٹی تعلیم دے کر بطور دیہاتی مبلغ گاؤں میں مقرر کر سکیں۔پس تین قسم کے آدمیوں کی ہمیں ضرورت ہے۔ایک مڈل پاس طالب علموں کی ، جو کثرت سے آ کر مدرسہ احمدیہ میں داخل ہوں۔جن کا کام یہ ہوگا کہ وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے عربی ممالک میں جا کر تبلیغ کریں گے یا جہاں علمی لوگوں سے مقابلہ ہوگا وہاں جائیں گے یا قادیان میں درس دیں گے اور نئی پود تیار کرنے کا کام کریں گے۔دوسرے مڈل یا پرائمری پاس نو جوانوں کی ضرورت ہے۔جو ایک دو سال تعلیم حاصل کرنے کے بعد بطور دیہاتی مبلغ کام کریں۔اور تیسرے بعض جگہوں پر فوری طور پر مشن کھولنے کے 527