تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 526
اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 19 جنوری 1945ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم ہے؟ اور تین تین اور سات سات کے تیار ہونے سے ہم اس دنیا میں کیا تبلیغ کریں گے؟ تو معلوم ہوتا ہے کہ ہماری جماعت کا بیشتر حصہ تبلیغ کو بھک منگوں اور نکموں کا کام سمجھتا ہے، جن کو اور کوئی کام نہ ہو۔اگر یہی سستی رہی اور اگر ایسی غفلت رہی، اگر یہی افکار رہے کہ دین کے کام کرنا غریبوں کا کام ہے اور امراء دین کے کاموں سے غافل رہے تو یہ پھر خدا تعالیٰ کے عذاب کو بلانے کا موجب ہوگی۔اور دنیاختم نہیں ہوگی کہ کفار کو مارنے کی بجائے خدا تعالیٰ کے فرشتے پہلے ایسے لوگوں کو چن چن کر ماریں گے، جو دین میں داخل ہوئے مگر پھر دین کی کوئی پروانہ کی اور دین کی خدمت کے لئے کوئی کام نہ کیا۔آخر تم کیا سمجھتے ہو کہ دین کی خدمت کا کام کس نے کرنا ہے؟ اگر تم اپنی آمدنی کا سولہواں حصہ دے کر یا دسواں حصہ دے کر یا پانچواں حصہ دے کر یہ سمجھتے ہو کہ تم نے دین کی خدمت کر لی تو یہ غلط خیال ہے۔دین کے لئے تمہیں یہ چیز بھی دینی ہوگی اور اپنی جانیں بھی دینی ہوں گی اور جانیں دینے کا بہترین طریق یہ ہے کہ اپنی اولادوں کو دین کی خدمت کے لئے پیش کرو۔کیا یہ خدا سے مذاق نہیں کہ تم اس کے دین میں داخل ہو کر پھر دین کی خدمت سے جی چراتے ہو اور پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتے ہو؟ کیا تم خدا سے مذاق کر کے اس کے عذاب سے محفوظ رہ سکتے ہو؟ جب تم دنیا کے کسی بادشاہ سے مذاق کر کے اس کی سزا سے محفوظ نہیں رہ سکتے تو خدا تعالیٰ سے مذاق کر کے پھر تم اس کے عذاب سے کس طرح محفوظ رہ سکتے ہو؟ مگر یہ کتنا مذاق ہے کہ تم خدا کے دین میں داخل ہوتے ہو اور اس کے بعد دین کی خدمت سے پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتے ہو؟ میں دیکھتا ہوں کہ تم میں سے کئی ایسے ہیں، جو پہلے اپنے آپ کو وقف کرتے ہیں اور پھر بھاگ جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جی ہم نے غلط سمجھا تھا، ہمیں پتہ نہیں تھا کہ وقف کیا ہے؟ رات کو میرے پاس ایک شخص کا خط آیا ، جس میں اس نے لکھا ہے کہ مجھے پتہ نہیں تھا کہ وقف کرنے میں اتنی تنگی ہوگی ؟ میں نے اس کا غلط مفہوم سمجھا تھا، میں اپنا وقف واپس لیتا ہوں۔حالانکہ وقف کرتے وقت جس فارم پر دستخط کئے جاتے ہیں، اس میں یہ سب باتیں لکھی ہوتی ہیں کہ میں ہر قسم کی تنگی اور ہر قسم کی تکلیف برداشت کروں گا اور گزارہ کے لئے جو کچھ مجھے دیا جائے گا، اسے میں انعام سمجھوں گا اور اسی میں گزارہ کروں گا۔اور گزارہ نہ بھی ملے ، تب بھی اپنا پیٹ پالنے کے لئے خود کوئی انتظام کروں گا۔اب یہ ایمان ہے یا بے ایمانی اور کفر پہلے ایک شخص اپنے آپ کو وقف کرتا ہے اور یہ عہد کرتا ہے کہ میں دین کی خاطر ہر طرح کی تکلیف برداشت کروں گا مگر پھر پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتا ہے۔اور پھر یہ بھی کتنے ہیں، جنہوں نے اپنے آپ کو وقف کیا ہے؟ ان کی تعداد بھی تو تسلی بخش نہیں۔ظفر کا ایک شعر ہے۔526