تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 528
اقتباس از خطبہ جمعہ فرموده 19 جنوری 1945ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔۔جلد دوم لئے عربی اور انگریزی گریجوایٹوں کی ضرورت ہے۔کیونکہ اس وقت لوگوں کے دل مصائب اور مشکلات کی وجہ سے غمزدہ ہیں اور وہ خدا تعالیٰ کی باتیں سننے اور خدا کے دین کی طرف متوجہ ہونے کے لئے تیار ہیں، اس لئے اس بات کی ضرورت ہے کہ ان جگہوں پر ہم فوری طور پر مشن کھولیں اور ان کی اس غم اور مصیبت کی حالت سے فائدہ اٹھائیں۔اگر ہم نے اس موقعہ سے فائدہ نہ اٹھایا تو ہم خدا تعالیٰ کے جاں نثار سپاہی نہیں کہلا سکتے“۔وو پس ضروری ہے کہ ہمارے پاس کافی آدمی تیار ہوں ، جن کے ذریعے ہم غیر ممالک میں فور تبلیغ پھیلا سکیں۔اس کے لئے مولوی فاضلوں کی ضرورت ہے تاکہ ہم انہیں فوراً باہر بھجواسکیں۔اور پھر ہماری جماعت کا سب سے مقدم فرض تو یہ ہے کہ اپنے ہمسائیوں سے ہمدردی کریں اور اپنے ملک میں تبلیغ کو وسیع کریں۔اس کے لئے بڑی تعداد میں مبلغین کی ضرورت ہے اور پھر اس بات کی ضرورت ہے کہ جماعت ہر سال ایک سو طالب علم مدرسہ احمدیہ کے لئے دے اور جماعت کا فرض ہے کہ اس خیال کو زندہ رکھے۔میں دیکھتا ہوں کہ جماعت میں یہ کمزوری پائی جاتی ہے کہ روپیہ کے معاملہ میں بھی اگر تعہد نہ کیا جائے تو ہماری جماعت کے لوگ مستی کر جاتے ہیں۔مثلاً تحریک جدید کے دس سالوں میں چندہ دینے کے بعد بعض تو ایسے ہیں، جنہوں نے پہلے سالوں سے بھی زیادہ چندہ دینے کے وعدے کئے ہیں اور کئی ایسے ہیں، جو دس سال چندہ دینے کے بعد اب تھک کر حصہ لینا چھوڑ چکے ہیں۔اور وہ سمجھتے ہیں کہ دراصل تو دس سالوں میں حصہ لینا ضروری تھا، اب ضروری نہیں۔حالانکہ خدا کے ہاں تو دس کا سوال ہی نہیں وہاں تو ضرورت کا سوال ہے۔اگر ضرورت باقی ہے تو تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ دیکھتے سرکار اس میں شرط یہ لکھی نہیں اگر کوئی شخص خدا کے ساتھ شرطیں باندھتا ہے تو وہ عقل سے کام لیتا ہے عشق سے کام نہیں لیتا“۔دیکھو جہاں عشق ہوتا ہے، وہاں اس بات کو نہیں دیکھا جاتا کہ ہم نے کیا شرط کی تھی؟ بلکہ اس بات کو دیکھا جاتا ہے کہ ہم نے وہ کام کر لیا ہے یا نہیں، جو ہمارے سپر دکیا گیا تھا۔پس کیا ان دس سالوں میں ہم نے روپیہ کے لحاظ سے یا آدمیوں کے لحاظ سے کام کر لیا ہے؟ ہم نے معمولی سی تبلیغ کے لئے جس میں چند سو مبلغ ہوں، تیرہ لاکھ روپیہ سالانہ خرچ کا اندازہ بتایا تھا۔اور ان دس سالوں میں کل تیرہ چودہ لاکھ روپیہ چندہ جمع کیا ہے، جس میں کچھ ساتھ کے ساتھ خرچ ہو چکا ہے۔تو جہاں چند لاکھ روپیہ کا کل ریز روفنڈ ہو، وہاں تبلیغ کی معمولی سے معمولی سکیم پر عمل کرنے کے لئے تیرہ لاکھ روپیہ سالانہ کہاں سے آ۔528