تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 525 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 525

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 19 جنوری 1945ء سے کوئی فیل نہ ہو، کوئی بیمار نہ ہو، کوئی تعلیم نہ چھوڑے اور سارے کے سارے پاس ہو جائیں تو پھر دس سال کے بعد سو مبلغ ملنے کی امید ہو سکتی ہے اور بیس سال کے بعد ایک ہزار مبلغوں کی امید ہو سکتی ہے۔میرا دل تو یہ خیال کر کے بھی کانپ جاتا ہے کہ میں سال کے بعد صرف ایک ہزار مبلغ تیار ہوں۔کیونکہ ہیں سال میں تو دنیا تہ و بالا ہو جانے والی ہے اور ایسے ایسے عظیم الشان تغیرات پیدا ہونے والے ہیں کہ ہم میں سے جو اس وقت زندہ ہوں گے، وہ دیکھیں گے کہ آج سے ہیں سال بعد دنیا بالکل بدلی ہوئی ہو گی۔خدا اور خدا کے فرشتے ایک طرف اور شیطان اور شیطان کے لشکر دوسری طرف ہوں گے اور ان کے درمیان جنگ ہورہی ہے۔اور آج سے ہیں سال بعد یا اسلام کی داغ بیل ڈالی جاچکی ہوگی (انشاء) اللہ ) اور یا کفر اسلام کی جڑوں کو اکھاڑ کر پھینک چکا ہوگا ( العیاذ باللہ )۔دہر بیت دوڑتی ہوئی دنیا میں پھیلتی جارہی ہے اور اس کے مقابلہ میں جس طرح ربڑ کو بینچ کر چھوڑ دیں تو وہ سمٹ جاتی ہے، اسلام پیچھے ہٹ رہا ہے۔یہ درست ہے کہ اصل چیز تو آخری فیصلہ ہے اور آخری فیصلہ کے لئے لمبے عرصہ کی ضرورت ہوتی ہے۔مگر جب کسی انسان پر غرغرہ اور نزع کی حالت طاری ہو جائے اور وہ اشاروں سے باتیں کرنے پر آ جائے تو پھر اس کی زندگی قابل اعتبار نہیں ہوتی۔پھر تو وہ آگے موت کی طرف ہی جاتا ہے۔پس آخری فیصلہ کو جانے دو۔اس وقت تو تمام امیدیں ختم ہو جاتی ہیں اور تمام کوششیں بیکار ہوتی ہیں۔انسان کی کوششیں تو اسی حالت میں کارآمد ہو سکتی ہیں، جب اسے حیات کی امید ہو اور وہ یہ سمجھ کر کام کرے کہ یا تو میں زندگی حاصل کر کے رہوں گا یا پھر مجھ پر موت آجائے گی۔پس موت وحیات کی کشمکش میں کی ہوئی کوششیں ہی کارآمد ہوسکتی ہیں اور وہ یہی چند سال ہیں۔اور ان چند سالوں کے اندر ایسے ایسے عظیم الشان تغیرات ہونے والے ہیں کہ اگر اس عرصہ کے اندراندر ہماری طرف سے اسلام کو دنیا پر غالب کرنے کی پوری پوری کوشش نہ کی گئی تو اس کا نتیجہ ہمارے حق میں بہت خطرناک ہوگا اور ہم آپ اپنی موت کو بلانے والے ہوں گے۔پس اگر ہر سال ایک سو طالب علم مدرسہ احمدیہ میں داخل ہوں تو بیس سال کے بعد ہمیں ایک ہزار مبلغ ملنے کی امید ہوسکتی ہے، جو قلیل ترین تعداد ہے۔کیونکہ ساری دنیا میں تبلیغ کرنے کے لئے ہمیں ہزاروں مبلغوں کی ضرورت ہے۔اور پھر یہ اندازے بھی تو صرف خیالی ہیں، واقعہ میں تو ہمارے پاس ایک سو مبلغ بھی موجود نہیں۔پچھلے سے پچھلے سال صرف تین طالب علم مدرسہ احمدیہ میں داخل ہوئے تھے اور پچھلے سال سات داخل ہوئے تھے۔ان تین تین اور سات سات لڑکوں کے داخل ہونے سے کیا بن سکتا 525