تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 522 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 522

اقتباس از خطبہ جمعہ فرموده 19 جنوری 1945ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد دوم ہر ڈاکٹر ، ہر طبیب ، ہر صناع ، ہر تاجر، ہر زمیندار اور ہر مزدور اپنے گزارہ کے لئے کام کرنے کے علاوہ دوسرے سیارے کام بھی کر سکتا ہے۔پس کسی ایک کام کو معیشت کمانے کے لئے اختیار کرنا اور بات ہے لیکن یہ کہ ہر شخص دنیا کے سارے کاموں میں حصہ لے، یہ بالکل اور بات ہے۔پس ہماری جماعت کے سامنے جو مقصد ہے ، اس کو پورا کرنے کے لئے اسے سیاسیات اور اس قسم کے دوسرے تمام کاموں سے الگ رہنا چاہیے، جو کام انسان کے اوقات کو اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں اور اسے اہم کام کے قابل نہیں رہنے دیتے۔سیاسی لوگ سیاسیات میں ہی حصہ لے سکتے ہیں تعلیم والے تعلیم دینے پر ہی اپنے اوقات صرف کر سکتے ہیں اور ہمیشہ وہ اپنے پیشہ میں ہی وقت لگا سکتے ہیں اور کسی دوسرے کام کے لئے وقت نکالنا ان کے لئے ممکن نہیں ہوتا۔اگر ممکن ہو سکتا تو ہماری جماعت کو پورے طور پر دین کے کاموں میں لگ جانا چاہیے تھا۔لیکن چونکہ یہ ناممکن ہے اور ہمارے پاس ایسے ذرائع نہیں کہ ہر انسان کے کھانے پینے اور اس کے گزارہ کا ہم انتظام کر سکیں۔اور اپنی اس کمزوری کا ہمیں اقرار ہے کہ ہماری جماعت میں ابھی وہ ایمان پیدا نہیں ہوا کہ ہر شخص کھانے پینے اور اپنی دوسری دنیوی ضروریات سے بے نیاز ہو کر دین کے کاموں میں لگ جائے۔اس لئے مجبور ہماری جماعت کے لوگوں کو کچھ اس کمزوری کی وجہ سے اور کچھ خدائی قانون کے ماتحت اپنے گزارہ کے لئے کام کرنا پڑتا ہے۔لیکن اگر اس کے علاوہ وہ سارے کے سارے اور کاموں میں بھی لگ جائیں تو اتنی وسیع دنیا میں تبلیغ کا کام کس طرح ہو سکے گا ؟ اگر ہم ایمان میں پختہ ہیں، اگر ہمارے اندر یقین اور وثوق ہے، اگر ہم نے دین کا کام کرنا ہے، جس کا ہم منہ سے دعوی کرتے ہیں تو لازمی بات ہے کہ جب تک ہم اپنے اوقات دین کی خدمت کے لئے نہ لگائیں گے اس وقت تک ہمارے منہ کے کہنے سے کچھ نہیں بن سکتا اور ہم اس کام سے عہدہ برآ نہیں ہو سکتے۔پس کسی شخص کا ہماری جماعت سے یہ خواہش کرنا کہ ہم سیاسیات میں دخل دیں اور کسی احمدی کا یہ خیال کرنا کہ علاوہ اپنی روزی کمانے کے اور دین کے کام کرنے کے، وہ سیاسیات اور دوسرے کاموں کے لئے بھی وقت نکال سکتا ہے، یہ بالکل غلط ہے۔اگر واقعہ میں ایک احمدی سنجیدگی سے غور کرے تو اس کو اپنے تمام اوقات ضرورت کے مطابق اپنی روزی کمانے کے لئے اور باقی دین کے کاموں کے لئے صرف کرنے چاہئیں۔آج کل تو کام اتنے ہیں کہ انسان اپنے دنیوی کامیوں سے ہی فارغ نہیں ہوتا اور اسے اپنے کام میں اتنی محنت نہیں کرنی پڑتی ہے کہ اس کی جان نکل رہی ہوتی ہے۔پہلے زمانہ میں اتنی محنت نہیں کرنی پڑتی تھی۔لیکن اس زمانہ میں ہر کام میں مقابلہ ہے۔پہلے زمانہ میں دکاندار دکان پر بیٹھے مکھیاں مارتے تھے لیکن 522