تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 523 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 523

تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 19 جنوری 1945ء اس زمانہ میں دکاندار کو اتنی محنت سے کام کرنا پڑتا ہے کہ شام کو جب وہ اپنے کام سے واپس آتا ہے تو تھک کر نڈھال ہو چکا ہوتا ہے۔اسی طرح پہلے زمانہ میں ملازمین دفتروں میں بیٹھے قلمیں گھڑتے رہتے تھے لیکن اب یہ بات نہیں۔بلکہ اب ایک ملازم کو مسلسل چھ سات گھنٹے کام کرنا پڑتا ہے اور جب وہ واپس آتا ہے تو کام کی وجہ سے اتنا چور ہو چکا ہوتا ہے کہ اسے کچھ دیر آرام کی ضرورت ہوتی ہے اور کچھ وقت اسے گھر کے لئے سودا سلف لانے پر بھی صرف کرنا پڑتا ہے۔پھر اگر دین کے لئے کوئی کام کرنے کی بجائے وہ کسی اور کام کے لئے چلا جاتا ہے تو وہ اپنے آپ کو احمدی کہتا کیوں ہے؟ آخر اس نے دین کو کیا فائدہ پہنچایا ہے کہ وہ اپنے آپ کو احمدی کہتا ہے؟ اگر یہ نوکری کرتا ہے تو اس کی طاقت تو اس کی نوکری نے سلب کر لی۔اگر یہ پیشہ ور ہے تو اس کی طاقت تو اس کے پیشہ نے سلب کر لی۔اگر یہ مزدور ہے تو اس کی طاقت تو اس کی مزدوری نے سلب کرلی اور اگر یہ زمیندار ہے تو اس کی طاقت تو اس کی زمینداری اور اس کے ہل چلانے نے سلب کر لی۔اور یہ اپنے کام سے چور ہو کر تھکا ماندہ گھر آتا ہے۔اب اگر کھانے پینے آرام کرنے اور سونے کے بعد اس کے پاس گھنٹہ دو گھنٹے نہایت قلیل وقت بچتا ہے، جس میں یہ دین کا کوئی کام کر سکے۔لیکن یہ اس وقت کو بھی کسی اور کام میں صرف کر دیتا ہے تو پھر اس کا اپنے آپ کو احمدی کہنا کیا معنی رکھتا ہے؟ جب اس کے اوقات میں خدا تعالیٰ کا کوئی خانہ ہی خالی نہیں تو پھر اس کو خدا کے سپاہیوں میں داخل ہونے کی ضرورت کیا ہے؟ میں دیکھتا ہوں کہ احمدیوں میں ابھی کئی ہیں، جن کا ایمان راسخ نہیں کہ وہ اپنے اوقات دین کے لئے صرف کریں۔اگر ان سے پوچھا جائے کہ آپ نے دین کا کیا کام کیا ہے؟ تو ان میں سے بمشکل پانچ فیصدی یا دو فیصدی ایسے ہوں گے، جو یہ کہیں کہ ہم نے دین کا فلاں کام کیا ہے۔باقی سارے کے سارے ایسے ہوں گے، جو یہ کہیں گے کہ جی فرصت ہی نہیں ملتی کہ کوئی کام کریں۔پس اول تو یہی حالت نہایت خطرناک ہے کہ جماعت کے اکثر افراد ایسے ہیں، جو دین کی خدمت کے لئے وقت نہیں نکال رہے لیکن جو اپنا کچھ وقت دین کی خدمت کے لئے نکال رہے ہیں، وہ بھی اگر اپنی توجہ اور کاموں کی طرف پھیر دیں تو اس کے یہ معنی ہو گئے کہ جماعت میں دین کا کام کرنے والا کوئی نہ رہے اور اس کام کے لئے صرف مبلغ رہ جائیں۔اور جو شخص یہ خیال کرتا ہے کہ دین کا کام صرف مبلغوں کے ذریعہ سے ہوسکتا ہے، اس کا یہ خیال بالکل غلط ہے۔مبلغ تبلیغ نہیں کرتا، تبلیغ کے لئے رستہ صاف کرتا ہے۔مبلغ تبلیغ نہیں کرتا، تبلیغ کے لئے مصالحہ بہم پہنچاتا ہے۔تبلیغ کرنے والا جماعت کا ہر فرد ہے۔رشتہ دار اپنے رشتہ دار کو تبلیغ کر سکتا ہے، ہمسایہ 523