تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 40 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 40

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 08 نومبر 1940ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد دوم کے بعد خدا تعالیٰ نے اس انسان کو خلافت کے لئے چنا، جس کے متعلق دنیا یہ حقارت سے کہتی تھی کہ وہ نہ بعد نے چنا کے دنیا سے ظاہری علوم سے آگاہ ہے نہ باطنی علوم جانتا ہے، نہ اس کی صحت اچھی ہے نہ اسے کوئی رعب اور دبدبہ حاصل ہے اور نہ ہی کسی اور رنگ میں وہ لوگوں میں مشہور ہے۔اور اس طرح خدا نے ظاہر کر دیا کہ اس سلسلہ کوترقی دینا میرا کام ہے اور میں اگر چاہوں تو مٹی سے بھی بڑے بڑے کام لے سکتا ہوں۔تو اللہ تعالیٰ کے قائم کر وہ سلسلے خدائی مدد پر چلتے ہیں کسی انسان کی وجہ سے نہیں چلتے۔اور اگر ہماری جماعت کسی وقت یہ سمجھ لے کہ فلاں شخص کے بیمار ہونے یا چلے جانے یا وفات پا جانے سے سلسلہ کے کام میں خرابی پیدا ہو جائے گی تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ اس نے تو کل کو چھوڑ دیا۔جب تک ہماری جماعت میں یہ تو کل رہے گا ممکن ہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ نئے سے نئے آدمی کا م کر نے والے پیدا نہ کرے۔آخر ہماری جماعت میں لوگ بیمار بھی ہوتے ہیں اور مر بھی جاتے ہیں۔مگر کیا کبھی بھی ہمارے کاموں میں رخنہ پڑا ؟ ہم نے تو دیکھا ہے کہ جب بھی ایسا ہوتا ہے اللہ تعالٰی فوراً ایسے آدمی کھڑے کر دیتا ہے جو ان کے کام کو سنبھال لیتے ہیں۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کو علمی لحاظ سے دنیا میں خاص شہرت حاصل تھی۔اسی طرح مولوی سید محمد احسن صاحب بھی بہت مشہور تھے، مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب اور قاضی سید امیر حسین صاحب بھی بڑے پایہ کے عالم تھے۔گو باہر ان کی علمی شہرت نہیں تھی مگر حضرت خلیفہ اول کی وفات کی وجہ سے ایک عالم تو اس طرح ختم ہو گیا اور دوسرا عالم سلسلہ خلافت سے مرتد ہو گیا۔تب وہی لوگ جو دس دن پہلے گمنام زندگی بسر کر رہے تھے، یکدم آگے آگئے۔چنانچہ حافظ روشن علی صاحب مرحوم، میر محد الحق صاحب اور مولوی محمد اسماعیل صاحب مرحوم نمایاں ہونے شروع ہو گئے۔ان میں سے ایک کتابوں کے حوالے یاد رکھنے کی وجہ سے اور باقی دو اپنے مباحثوں کی وجہ سے جماعت میں اتنے مقبول ہوئے کہ مجھے یاد ہے اس وقت ہمیشہ جماعتیں یہ لکھا کرتی تھیں کہ اگر حافظ روشن علی صاحب اور میر محمد اسحاق صاحب نہ آئے تو ہمارا کام نہیں چلے گا۔حالانکہ چند مہینہ پہلے حضرت خلیفہ اول کی زندگی میں انہیں کوئی خاص عزت حاصل نہیں تھی۔میر محمد اسحاق صاحب کو تو کوئی جانتا بھی نہیں تھا اور حافظ روشن علی صاحب گو جماعتوں کے جلسوں پر آنے جانے لگ گئے تھے مگر لوگ زیادہ تر یہی سمجھتے تھے کہ ایک نوجوان ہے جسے دین کا شوق ہے اور وہ تقریروں میں مشق پیدا کرنے کے لئے آجاتا ہے۔مگر خلیفہ اول کی وفات کے بعد چند دنوں میں ہی انہیں خدا تعالیٰ نے وہ عزت اور رعب بخشا کہ جماعت نے یہ سمجھا کہ ان کے بغیر اب کوئی جلسہ کامیاب ہی نہیں 40