تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 41
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد دوم اقتباس از خطبہ جمعہ فرموده 08 نومبر 1940ء ہوسکتا۔پھر کچھ عرصہ کے بعد جب ادھر میر محمد اسحاق صاحب کو نظامی امور میں زیادہ مصروف رہنا پڑا اور ان کی صحت بھی خراب ہوگئی اور ادھر حافظ روشن علی صاحب وفات پاگئے تو کیا اس وقت بھی کوئی رخنہ پڑا؟ اس وقت اللہ تعالیٰ نے فوراً مولوی ابوالعطاء صاحب اور مولوی جلال الدین صاحب شمس کو کھڑا کر دیا اور جماعت نے محسوس کیا کہ یہ پہلوں کے علمی لحاظ سے قائم مقام ہیں۔غرض کبھی بھی ایسا نہیں ہوا کہ ہماری جماعت کے کسی آدمی کے ہٹنے یا اس کے مرجانے کی وجہ سے سلسلہ کے کاموں میں کوئی رخنہ پڑا ہو بلکہ جب بھی بعض لوگ ہے، بغیر ہماری کوشش اور سعی کے اللہ تعالی گمناموں میں سے بعض آدمیوں کو پکڑ پکڑ کر آگے لاتارہا۔اسی طرح میں سمجھتا ہوں مولوی غلام رسول صاحب را نیکی کا اللہ تعالیٰ نے جو بحر کھولا ہے، وہ بھی زیادہ تر اسی زمانہ سے تعلق رکھتا ہے۔پہلے ان کی علمی حالت ایسی نہیں تھی۔مگر بعد میں جیسے یکدم کسی کو پستی سے اٹھا کر بلندی تک پہنچا دیا جاتا ہے، اسی طرح خدا نے ان کو مقبولیت عطا فرمائی اور ان کے علم میں ایسی وسعت پیدا کر دی کہ صوفی مزاج لوگوں کے لئے ان کی تقریر بہت ہی دلچسپ ، دلوں پر اثر کرنے والی اور شبہات و وساوس کو دور کرنے والی ہوتی ہے۔گزشتہ دنوں میں شملہ گیا تو ایک دوست نے بتایا کہ مولوی غلام رسول صاحب را جیکی یہاں آئے اور انہوں نے ایک جلسہ میں تقریر کی جو رات گیارہ ، ساڑھے گیارہ بجے ختم ہوئی۔تقریر کے بعد ایک ہندو ان کی منتیں کر کے انہیں اپنے گھر لے گیا اور کہنے لگا کہ آپ ہمارے گھر چلیں آپ کی وجہ سے ہمارے گھر میں برکت نازل ہوگی۔تو اللہ تعالیٰ نے کب ہمارا ساتھ چھوڑا ہے جو اب ہم اس کے متعلق بدگمانی کریں اور یہ خیال کریں کہ اگر کوئی شخص بیمار ہو جائے یا وفات پا جائے تو سلسلہ کا کام رک جائے گا ؟ پس لجنہ اماءاللہ کو چاہئے تھا کہ جب سیکرٹری بیمار ہوئی تھی تو فوراً کسی اور کو سیکرٹری بنالیا جاتا اور محلہ وار چندہ کی وصولی پر زیادہ زور دیا جاتا۔عورتوں کے اندر سلسلہ کے متعلق جو اخلاص پایا جاتا ہے اس کے لحاظ سے یہ کوئی بعید بات نہیں تھی کہ اگر وہ تن دہی سے کام شروع کر دیتیں تو تحریک جدید کے چندہ کی وصولی میں مردوں سے بڑھ کر نہ رہتیں۔مگر انہوں نے تو کل سے کام نہ لیا اور سمجھ لیا کہ چونکہ ان کی سیکرٹری بیمار ہے اس لئے انہیں اس کام میں بھی التو اڈال دینا چاہئے۔نتیجہ یہ ہوا کہ وہ نیک نامی جو برابر پانچ سال سے ان کو حاصل ہو رہی تھی اس سال اس نیک نامی کے حصول سے وہ محروم رہیں۔اسی طرح قادیان کے مردوں کو میں اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ ان کی چندہ تحریک جدید کی ادائیگی میں سستی بھی زیادہ تر کمی تو کل کی وجہ سے ہے۔اس دفعہ لڑائی شروع تھی اس لئے لوگوں نے یہ 41