تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 39 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 39

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 08 نومبر 1940ء جب حضرت مسیح موعود فوت ہوئے تو عام طور پر یہ خیال کیا جاتا تھا کہ اب سلسلہ تباہ ہو جائے گا۔اور دشمن خوش تھا کہ چندہ آنا اب بند ہو جائے گا اور جماعت کی ترقی رک جائے گی۔مگر جب لوگوں نے ایک دو سال بعد دیکھا کہ جماعت افراد کی تعداد کے لحاظ سے بھی بڑھ گئی ہے، قربانی کے لحاظ سے بڑھ گئی ہے اور اشاعت دین کے لحاظ سے بھی بڑھ گئی ہے تو انہوں نے یہ نئی بات بنائی کہ اصل میں مولوی نورالدین صاحب جماعت میں ایک بہت بڑے عالم ہیں اور سلسلہ کی تمام ترقی کا انحصار انہی پر ہے۔مرزا صاحب کی زندگی میں تمام کام مولوی صاحب ہی کرتے تھے ، گو ظاہر میں مرزا صاحب کا نام رہتا تھا۔چنانچہ کئی مولوی طرز کے لوگ جو ظاہری علوم کی قدر زیادہ کیا کرتے ہیں ، وہ حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں ہی کہا کرتے تھے کہ اس سلسلہ کو مولوی نورالدین صاحب چلا رہے ہیں۔انہوں نے جب حضرت مسیح موعود کی وفات کے بعد دیکھا کہ مولوی صاحب کے زمانہ میں سلسلہ پہلے سے بھی زیادہ ترقی کر رہا ہے تو انہوں نے خوش ہو کر کہنا شروع کر دیا کہ ہم نہ کہتے تھے، تمام کام مولوی نورالدین صاحب کا ہے۔غرض حضرت خلیفہ اول کے وقت سلسلہ پہلے سے بھی زیادہ ترقی کر گیا اور مخالفوں نے یہ کہہ کر اپنے دل کو تسلی دینی شروع کر دی کہ یہ تمام کاروائی نورالدین کی ہے۔اس کی وفات کے بعد یہ سلسلہ تباہ ہو جائے گا۔حضرت خلیفہ اول جب وفات پاگئے تو ان کے بعد اگر جماعت کے وہ مشہور لوگ جو اثر اور رسوخ رکھتے تھے ، جیسے خواجہ کمال الدین صاحب یار یو یو آف ریچز کی ایڈیٹری کے لحاظ سے مولوی محمد علی صاحب، خلیفہ منتخب ہو جاتے تو انگریزی دان طبقہ یہ خیال کرتا کہ اب جماعت کی ترقی کی وجہ یہ ہے کہ کوئی انگریزی میں دسترس رکھنے والا خلیفہ ہو گیا ہے۔کیونکہ یہ مغربی علوم کے غلبہ کا ہی زمانہ ہے۔مولویوں اور ملانوں سے یہ کام نہیں ہو سکتا۔جیسے حضرت خلیفہ اول البعض دفعہ فرمایا کرتے تھے کہ بعض لوگ ہمیں غصہ سے قُلْ اَعُوذُ تے مُلا کہہ دیا کرتے ہیں، تو اگر ان میں سے کوئی خلیفہ ہو جاتا تو انگریزی دان طبقہ پھر بھی یہ خیال کر سکتا تھا کہ ممکن ہے جماعت کی ترقی انہی کی وجہ سے ہو۔مگر اللہ تعالیٰ نے اس الزام کو دور کرنے کے لئے کہ یہ سلسلہ انسانوں پر چل رہا ہے، اس انسان کو خلافت کے لئے چنا۔جس کے متعلق یہ کہا جاتا تھا کہ وہ نالائق ہے، نا تجربہ کار ہے، کم علم ہے اور وہ جماعت کو تباہ کر دے گا۔تا دنیا پر یہ ظاہر کرے کہ یہ خدا کا سلسلہ ہے کسی انسان کا قائم کردہ سلسلہ نہیں۔بے شک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خدا تعالیٰ کے مقرب تھے مگر اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ سلسلہ ان کا بھی نہیں بلکہ میرا تھا۔اور بے شک حضرت مولوی نورالدین صاحب ایک بہت بڑے عالم تھے مگر ان کا علم بھی میرے فضل کا نتیجہ تھا۔اورسلسلہ ان کا نہیں بلکہ میرا تھا۔اور اس 39