تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 38 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 38

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 08 نومبر 1940ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم طرف توجہ کی اور جنہوں نے اپنے وعدوں کو پورا کر دیا ، ان کے لئے تو بے شک وقفہ ہو سکتا ہے۔مگر اب جو تحریک جماعت کے کارکن کریں گے اس کا بوجھ ان لوگوں پر پڑے گا جنہوں نے گیارہ مہینے غفلت سے گزار دیئے اور انہوں نے اپنے وعدوں کو پورا کرنے کا کوئی خیال نہ کیا۔پس گیارہ مہینے دوسروں سے پیچھے رہ جانے کی وجہ سے وہ کسی آرام کے مستحق نہیں بلکہ اس بات کے مستحق ہیں کہ انہیں بیدار کیا جائے۔مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ تحریک جدید کے چندہ میں قادیان کی جماعت کی وصولی نہ صرف پچھلے سال سے کم ہے بلکہ باہر کی کئی جماعتوں سے بھی کم ہے۔اور یہ پہلا سال ہے جس میں قادیان کی جماعت بعض دوسری جماعتوں سے پیچھے رہی۔اس میں بہت سادخل میری ایک بیوی کی بیماری کا بھی ہے۔جو لجنہ اماءاللہ کی سیکرٹری ہیں اور جو بیمار رہنے کی وجہ سے ہی چندہ کی وصولی کا اہتمام نہیں کر سکیں۔مگر میں اس بات کا قائل نہیں کہ کوئی زندہ جماعت ایسی بھی ہو سکتی ہے جس کے کسی کام کا انحصار صرف ایک آدمی پر ہو۔اور اگر وہ بیمار ہو جائے یا خدا نخواستہ فوت ہو جائے تو کام بند ہو جائے۔اس وقت ہمیں جو کارکن میسر ہیں، کیا ان کے متعلق کوئی بھی شخص کہہ سکتا ہے کہ وہ ہمیشہ زندہ رہیں گے؟ اور جب وہ ہمیشہ زندہ نہیں رہیں گے تو کیا اُن کی وفات کے بعد سلسلہ کا کام بند ہو جائے گا؟ زندہ سلسلہ کی علامت یہی ہوا کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس میں کام کرنے والے آدمی پیدا کرتا چلا جاتا ہے اور اس کے سلسلہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔یہی وجہ ہے اللہ تعالٰی، انبیاء کی وفات کے بعد ان کے سلسلہ کو زیادہ ترقی دیتا ہے تا دنیا کو یہ بتائے کہ میرے سلسلہ کا انحصار انبیاء کے وجود پر بھی نہیں۔حالانکہ خدا تعالیٰ کے دین کے لئے سب سے زیادہ قربانی کرنے والے انبیاء ہی ہوتے ہیں۔مگر خدا تعالیٰ یہ بتانے کے لئے کہ اس کے دین کی ترقی کا انحصار کسی شخص واحد کی ذات پر نہیں، انبیاء کی وفات کے بعد ان کے قائم کردہ سلسلہ کو اور زیادہ ترقیات دینی شروع کر دیتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے زمانہ میں بڑی کامیابی ہوئی مگر حضرت ابو بکر کے زمانہ خلافت میں اس سے بھی زیادہ کامیابی ہوئی اور حضرت عمرؓ کے زمانہ خلافت میں اس سے بھی زیادہ ، اس کے یہ معنی نہیں کہ ابوبکر اور عمر نعوذ باللہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے زیادہ اللہ تعالیٰ کے مقرب تھے، ان کا قرب رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے قرب کے مقابلہ میں بالکل کم ہے اور ان کی قربانیاں رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی قربانیوں کے مقابلہ میں بالکل بیچ ہیں مگر پھر بھی اللہ تعالیٰ نے یہ بتانے کے لئے کہ یہ دین میرا ہے، کسی انسان کا قائم کردہ نہیں ، ان کی حقیر کوششوں میں برکت زیادہ ڈال دی۔38