تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 494 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 494

اقتباس از تقریر فرموده 109 اپریل 1944ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔۔جلد دوم تو ہماری فتح یقینی اور قطعی ہے۔کیونکہ اس وقت یہ سوال ہی نہیں ہوگا کہ ان کو سلسلہ کی طرف سے ملتا کیا ہے؟ بلکہ وہ خدا کے دین کی اشاعت کے لئے دیوانہ وار نکل کھڑے ہوں گے اور ہر قربانی کے لئے شرح صدر سے تیار ہوں گے۔انہیں اگر پہاڑوں کی چوٹی سے اپنے آپ کو گرانے کے لئے کہا جائے گا تو وہ ہر پہاڑ سے گرنے کے لئے تیار ہوں گے۔انہیں اگر سمندر میں چھلانگ لگانے کے لئے کہا جائے گا تو وہ سمندر میں چھلانگ لگانے کے لئے تیار ہوں گے۔انہیں اگر اپنے آپ کو جلتی ہوئی آگ میں جھونکنے کے لئے کہا جائے گا تو وہ ہر جلتی آگ میں اپنے آپ کو بھسم کرنے کے لئے تیار ہوں گے۔ایسے لوگ اگر پانچ ہزار ہماری جماعت میں پیدا ہو جائیں تو فتح کا سوال ایک آن میں حل ہو جائے اور کفر کی شوکت دیکھتے ہی دیکھتے خاک میں مل جائے۔مگر چونکہ ابھی تک جماعت کے لوگ اس بلند معیار تک نہیں آئے ، اس لئے واقعات کو مد نظر رکھتے ہوئے ہمیں کہنا چاہیے کہ پانچ ہزار سپاہی اگر ان سامانوں کے ساتھ آگے آئیں، جن سے ادنی درجہ کی تبلیغ ساری دنیا میں کی جاسکتی ہے تو اس کے لئے دو کروڑ روپیہ سالانہ کی ضرورت ہو گی۔مگر یہ اتنی بڑی مالی قربانی ہے، جو جماعت کی موجودہ حالت کے لحاظ سے ایک لمبے وقت کا مطالبہ کرتی ہے۔لیکن وقت کے لمبا ہونے کے یہ معنی نہیں ہیں کہ اس کام کو شروع بھی نہ کیا جائے۔اگر ہم اعلی پیمانہ پر اس کام کو جاری نہیں رکھ سکتے تو ادنی پیمانہ پر تو اس کام کو شروع کر سکتے ہیں۔اگر ہم اس کام کو شروع کر دیں اور ادنی ادنیٰ قربانیوں میں دلی شوق کے ساتھ حصہ لیں تو یقینا اللہ تعالی ایک دن ہمیں بڑی قربانیوں میں حصہ لینے کی بھی توفیق عطا فرمادے گا۔میں بار بار بتا چکا ہوں کہ ایک قربانی دوسری قربانی کی محرک ہوتی ہے۔یہ خدا تعالیٰ کی سنت ہے، جس کے خلاف تم کبھی کوئی مثال پیش نہیں کر سکتے کہ جب ایک نیکی کی جاتی ہے تو وہ دوسری نیکی کی محرک بن جاتی ہے۔پس اگر ہم سچے دل کے ساتھ ادنی درجہ کی مالی قربانیوں میں حصہ لیں گے تو اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کو توفیق عطا فر مادے گا کہ وہ اعلیٰ درجہ کی مالی قربانیوں میں بھی حصہ لے اور ان ذمہ داریوں کو پورا کرے، جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس پر عائد ہوتی ہیں۔ہمارا کام یہ ہے کہ ہم قربانی کے لئے جماعت کو بلاتے چلے جائیں۔تاکہ ہر قربانی کے بعد اس سے بڑی قربانی کی ہماری جماعت کو توفیق ملے۔بعض لوگ کہہ دیا کرتے ہیں کہ اگر انتہائی قربانی سے کام لیا گیا تو جماعت کی کمر ہمت ٹوٹ جائے گی۔مگر میں سمجھتا ہوں، یہ بات بالکل غلط ہے۔جب بھی ٹوٹے گا، منافق ہی ٹوٹے گا۔مومن کبھی قربانیوں سے ٹوٹ نہیں سکتا۔جو شخص قربانیاں کرتے وقت اپنے دائیں 494