تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 495
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم اقتباس از تقریر فرموده 09 اپریل 1944ء اور بائیں دیکھتا ہے اور سوچتا ہے کہ آیا فلاں بھی قربانی کر رہا ہے یا نہیں ؟ فلاں نے بھی حصہ لیا ہے یا میں ہی حصہ لے رہا ہوں؟ وہ کبھی قربانیوں کے میدان میں ثابت قدم نہیں رہ سکتا۔لیکن وہ جو خدا کے لئے محض اس کی رضا کے لئے ، دنیا کے لئے نہیں بلکہ دین کے لئے اپنا انتہائی زور بغیر دائیں بائیں دیکھنے کے صرف کر دیتا ہے، وہ ٹوٹا نہیں کرتا بلکہ پہلے سے زیادہ مضبوط ہو جایا کرتا ہے۔گارڈر کے او پر جب لکڑیاں ڈالی جاتی ہیں تو وہ ٹوٹا نہیں کرتیں ، خواہ ان پر چھت کی مٹی کا کس قدر بوجھ ہو؟ کیونکہ شہتیر ان کو سنبھالنے کے لئے موجود ہوتا ہے۔اسی طرح مومن کی کمر ہمت ہمیشہ مضبوط رہتی ہے۔کیونکہ وہ جانتا ہے کہ میرا خدا میرے ساتھ ہے۔یہ ہو نہیں سکتا کہ میں اس کے دین کے لئے قربانی کروں اور تباہ و برباد ہو جاؤں۔صحابہ نے ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! جہاد فی سبیل اللہ کے کیا معنی ہیں؟ آپ نے فرمایا۔جہاد مختلف نیتوں سے کئے جاتے ہیں۔کوئی شخص دوسری قوم کے بغض کی وجہ سے، جو اس کے دل میں مخفی ہوتا ہے، جنگ میں شامل ہوتا ہے اور کوئی حمية الجاهلية کی وجہ سے جنگ کرتا ہے، کوئی محض نام ونمود اور شہرت کے لئے جنگ کرتا ہے۔لیکن اصل مجاہد وہی ہے، جو صرف خدا تعالیٰ کی رضا جوئی کے لئے جہاد میں شامل ہوتا ہے۔پس قربانی وہی ہے، جو خدا تعالیٰ کے لئے کی جائے۔اور جو شخص خدا تعالیٰ کے لئے قربانی کرتا ہے، وہ کبھی ٹوٹ نہیں سکتا۔پس ہمیں اس وقت کے آنے سے پہلے جبکہ وہ پانچ ہزار مبلغ آویں، جنہیں ہم تبلیغ کے لئے دنیا میں پھیلا سکیں، بغیر کسی اور طرف نظر ڈالنے کے قربانیوں کے لئے اپنے آپ کو پیش کر دینا چاہیے۔تا کہ خدا تعالیٰ ان حقیر قربانیوں کو قبول فرماتے ہوئے ہمیں توفیق عطا کرے کہ جب بڑی قربانیوں کا مطالبہ ہو تو اس وقت ہم خوشی سے اپنی ہر چیز خدا تعالیٰ کے آستانہ پر قربان کرنے کے لئے پیش کر دیں۔ہماری مثال اس وقت بالکل اسی شخص کی سی ہے، جو اپنے مکان کی چھت کے لئے گارڈر کی تلاش کرتا ہے اور جب اسے گارڈر نہیں ملتا تو وہ بانس کے چھوٹے چھوٹے ٹکروں سے ہی کام لیتا ہے۔اس کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ اب اسے گارڈروں کی ضرورت نہیں رہی۔وہ گارڈروں کی ضرورت کو اس وقت بھی تسلیم کرتا ہے، جب اس کے مکان کی چھت پر بانس کی لکڑیاں پڑی ہوتی ہیں۔مگر چونکہ گارڈرا سے ملتے ہیں، اس لئے وہ معمولی اور ادنی درجہ کی چیزوں سے کام لینے کی کوشش کرتا ہے۔اسی طرح جب تک ہمیں وہ پانچ ہزار مبلغ نہیں ملتے، جو دنیا کے ایک معتد بہ حصہ میں تبلیغ اسلام کا فرض سرانجام دیں، اس وقت تک ضروری ہے کہ ہم تبلیغ اسلام کے لئے ادنی اور معمولی درجہ کے ان سامانوں کو اختیار کریں، جواس وقت 495