تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 493 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 493

تحریک جدید - ایک البی تحریک۔۔۔جلد دوم اقتباس از تقریر فرمود 09 اپریل 1944ء طرف سے وظیفہ نہیں ملتا تھا، کوئی ماہوار تنخواہ مقرر نہیں تھی۔لیکن پھر بھی آپ دین کی خدمت کے لئے کھڑے ہو گئے اور آپ نے فیصلہ کیا کہ اب دین کی خدمت کرنا ہی میرا کام ہوگا۔میں دن کو بھی خدمت کروں گا اور رات کو بھی۔اور اس وقت تک آرام نہیں کروں گا ، جب تک اس تاریک دنیا کو خدا تعالیٰ کے نور سے منور نہ کرلوں۔یہ روح ہے، جو ہم میں سے ہر فرد کو اپنے اندر پیدا کرنی چاہیے۔اور یہی وہ روح ہے، جس کے پیدا ہونے کے بعد یہ سوال پیدا نہیں ہوتا کہ ہمیں اپنے کاموں کے لئے ایک کروڑ روپیہ کی ضرورت ہے یا دو کروڑ روپیہ کی ؟ صرف نیت اور ارادہ کی دیر ہے۔اگر نیت درست ہو ، اگر ارادگی میں پختگی ہو، اگر ایمان میں مضبوطی ہو تو کوئی روک مقابل میں نہیں آسکتی۔ہاں اگر ایمان ہی نہ ہو یا ارادے ہی کو تاہ ہوں تو پھر بے شک کروڑوں روپیہ کی ضرورت ہوگی۔مگر سچی بات یہ ہے کہ کروڑوں روپیہ بھی اس وقت تک کام نہیں دے سکتا، جب تک ایمان کی چنگاری انسانی روح کو گر مانہ رہی ہو۔اور جب تک ایمان کی حرارت اس کے قلب کو زندہ نہ رکھ رہی ہو۔میں سمجھتا ہوں، پانچ ہزار مبلغین کا رکھنا گو بظاہر بڑا مشکل نظر آتا ہے۔لیکن میرے نزدیک ہمارے پاس پانچ ہزار مبلغین سے بھی زیادہ مبلغ رکھنے کے سامان موجود ہیں۔صرف نیت اور ارادہ کی ضرورت ہے۔اگر سچی نیت کر لی جائے اور خدا تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے ، اس کے دین کی خدمت کا کام شروع کیا جائے تو اللہ تعالیٰ غیب سے برکتوں کے دروازے کھول دیتا ہے۔اور ایسی ایسی جگہوں سے کامیابی کے سامان مہیا کرتا ہے، جو انسانی واہمہ اور خیال میں بھی نہیں ہوتیں۔یہ ہماری کمزوری ہوتی ہے کہ ہم قربانی کرنے سے پہلے سوچتے ہیں کہ اس کا کیا نتیجہ نکلے گا؟ گویا ہم یہ سمجھتے ہیں کہ کام ہماری کوششوں سے ہوگا۔حالانکہ جو کچھ کرنا ہے، خدا نے کرنا ہے۔بندوں کو تو وہ محض ثواب دینے کے لئے شمولیت کا موقع عطا فرما دیتا ہے۔۔پس اصل بات یہ ہے کہ پانچ ہزار مبلغین کا مہیا ہونا ہمارے لئے ہر گز کوئی مشکل امر نہیں۔مگر اس کے لئے جماعت کو وہی راستہ اختیار کرنا چاہیے، جس راستہ کو اختیار کرنے کی ہدایت حضرت سیح موعود علیہ السلام دے چکے ہیں۔اگر اسی قسم کے لوگ ہمارے سلسلہ میں پیدا ہو جائیں، جن کو مدنظر رکھتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ:۔وو وو اگر ہماری جماعت میں چالیس آدمی بھی ایسے مضبوط رشتہ کے ہوں، جو رنج و راحت عسرویسر میں خدا تعالیٰ کی رضا کو مقدم کریں۔تو ہم جان لیں کہ ہم جس مقصد کے لئے آئے تھے، وہ پورا ہو چکا اور جو کچھ کرنا تھا، وہ کر لیا۔(الحکم 30 جون 1903 ء صفحہ 10) 493