تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 492
اقتباس از تقریر فرموده 109 اپریل 1944ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم عیسائیوں کو دیکھو، وہ شرک کی اشاعت کے لئے پانچ کروڑ پونڈ سالانہ مشنری سوسائٹیوں پر خرچ ) کرتے ہیں۔پانچ کروڑ پونڈ کے معنی ہیں 75 کروڑ روپیہ سالانہ۔اگر وہ جھوٹے خدا کو منوانے کے لئے 75 کروڑ روپیہ سالانہ خرچ کر سکتے ہیں تو کیا ہم بچے خدا کے نام کو بلند کرنے اور اس کے دین کو پھیلانے کے لئے دو کروڑ روپیہ سے پہلا تبلیغی قدم نہیں اٹھا سکتے ؟ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ عیسائی بہت مالدار ہیں اور حکومتیں ان کے قبضہ میں ہیں۔لیکن اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ روپیہ سے زیادہ نفس کی قربانی کام دیا کرتی ہے۔مال تو کوئی چیز ہی نہیں۔جب انسان اپنے نفس کی قربانی خوشی سے پیش کرنے کے لئے تیار ہو جائے تو مال کی قربانی اس پر ذرا بھی گراں نہیں گزرتی۔لیکن وہ جو نفس کی قربانی میں کمزور ہوتے ہیں، قربانی کا وقت آنے پر کچا دھا گا ثابت ہوتے ہیں، خدا تعالیٰ کی ناراضگی کے مورد بن جاتے ہیں۔دیکھو میں نے پانچ ہزار مبلغین کا خرچ دو کروڑ روپیہ سالانہ بتایا ہے۔اور یہ اتنا بڑا خرج ہے، جو ہماری موجودہ حالت کے لحاظ سے بالکل ناقابل برداشت ہے۔لیکن ایک اور نکتہ نگاہ سے اگر دیکھو تو ہماری جماعت اس وقت چار، پانچ لاکھ کے قریب ہے۔اس میں سے ہندوستان کی جماعت اڑھائی ، تین لاکھ سے کسی طرح کم نہیں۔اگر اس اندازہ کو صحیح سمجھ لیا جائے تو کم از کم بیس ہزار بالغ مرد ہماری ہندوستان کی جماعت میں ہی موجود ہیں۔ان میں ہزار میں سے پانچ ہزار مبلغین کا ملنا کون سی مشکل بات ہے؟ اگر ہر شخص دین کی اہمیت کو سمجھ جائے، اگر ہر شخص خدا تعالیٰ کے لئے قربانی کرنا اپنی سب سے بڑی سعادت اور کامیابی سمجھے اور اگر وہ سلسلہ سے ایک پیسہ لئے بغیر خدا تعالیٰ کے جلال اور اس کے کلمہ کو بلند کرنے کے لئے دنیا میں نکل کھڑا ہو تو پانچ ہزار مبلغین، جن کا اس وقت مہیا ہونا ہمیں سخت مشکل دکھائی دیتا ہے، نہایت آسانی اور سہولت کے ساتھ میدان میں نکل آئیں اور دنیا کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک پھیل جائیں۔اور کفر پر اس طرح چھا جائیں کہ اسلام کے مقابلہ میں اسے سراٹھانے کی تاب نہ رہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر شخص اپنے ایمان کا جائزہ لے اور دیکھے کہ کیا وہ صیح معنوں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ اپنے اندر لئے ہوئے ہے؟ اور کیا وہ کہہ سکتا ہے کہ جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی اشاعت کی ، اسی طرح میں اسلام کی اشاعت کرنے کے لئے تیار ہوں؟ اگر یہ ایمان جماعت کے ہر فرد میں پیدا ہو جائے تو یہ سوال ہی باقی نہ رہے کہ روپیہ کہاں سے آئے گا؟ آخر یہ بھی تو سوچنا چاہیے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیا تنخواہ لے کر کام کیا کرتے تھے؟ یا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کسی انجمن سے روپیہ لے کر تبلیغ کا کام شروع کیا تھا؟ آپ کو کسی انجمن کی 492