تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 466 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 466

خطبہ جمعہ فرموده 24 نومبر 1944ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد دوم بنگال کے لئے ، دو بمبئی کے لئے ، دوسندھ کے لئے ، دو صوبہ سرحد کے لئے اور دو یوپی اور بہار کے لئے تو اس سے ان علاقوں میں دینی تعلیمی کے حصول کا شوق بہت جلد پیدا ہو جائے گا اور ہر علاقہ میں ایسے علماء پیدا ہو جائیں گے، جو علم حاصل کرنے کے بعد اپنے اپنے علاقوں کو سنبھال سکیں گے۔اس طرح بارہ مدرس ان مراکز کے لئے درکار ہوں گے۔ان کے علاوہ دو عالم زائد رکھنے ہوں گے تا ان میں سے اگر کسی کو رخصت وغیرہ پر آنا پڑے یا کوئی بیمار ہو جائے تو کام بند نہ ہو۔اس طرح یہ میں علماء رکھنے ضروری ہیں۔اس انتظام کے بغیر ہم علم دین کو عام نہیں کر سکتے اور جب تک علماء عام نہ ہوں ، تربیت کا کام ناقص رہے گا۔اب بھی یہ شکایت عام ہو رہی ہے کہ جماعتیں تو قائم ہورہی ہیں مگر انہیں سنبھالنے والے آدمی بہت تھوڑے ہیں اور اس طرح جماعت کی ترقی میں بھی روک پیدا ہو رہی ہے اور تربیت میں بھی نقص رہتا ا ہے۔لیکن اگر اس طرح مختلف صوبوں میں ہم مدارس قائم کر دیں تو بیسیوں علماء پیدا ہوسکیں گے اور جماعت بھی ان کے ذریعہ بہت ترقی کرے گی۔ایک ایک عالم کے ذریعہ بعض اوقات سینکڑوں ہزاروں لوگ احمدیت میں داخل ہوئے ہیں۔بنگال میں ایک عالم مولوی عبدالواحد صاحب گزرے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ ان کی خط و کتابت بھی براہین احمدیہ حصہ پنجم میں شائع شدہ ہے۔ان کے ذریعہ بنگال میں ہزاروں لوگوں نے بیعت کی تو جہاں جہاں بھی کوئی بڑا عالم ہوا ہے سینکڑوں ہزاروں نے اس کے ذریعہ بیعت کی ہے۔پس اگر اس طرح ہم علماء تیار کر سکیں تو تبلیغ کے کام میں بھی بہت ترقی ہو سکتی ہے اور لوگوں میں دینی ذوق پیدا ہونے کا سامان بھی پیدا ہو سکتا ہے۔اگر مختلف صوبوں میں قائم شدہ مدارس میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے چھ چھ طلباء کو بھی وظائف دیئے جائیں تو کم سے کم 36 طلباء کا مزید بوجھ سلسلے پر پڑے گا۔اس سلسلہ میں تیسری چیز دیہاتی سکیم کی ہے۔کچھ عرصہ ہوا میری توجہ اس طرف منعطف ہوئی کہ ہمارے موجودہ مبلغ چونکہ اعلی تعلیم پاتے ہیں اور شہری تمدن رکھتے ہیں، اس لئے وہ دیہات میں اور زمینداروں میں تبلیغ کا کام کماحقہ نہیں کر سکتے۔دیہاتیوں میں تبلیغ وہی کر سکتا ہے، جو ان میں رہے۔ان جیسا ہی تمدن رکھتا ہو۔چنانچہ دیہات میں جہاں جہاں بھی جماعتیں قائم ہوئی ہیں، وہ عام طور پر پٹواریوں، دیہاتی مدرسوں، اور نمبرداروں وغیرہ کے ذریعہ سے ہوئی ہیں اور اب بھی جہاں کوئی پٹواری یا مدرس احمدی ہو تھوڑی بہت جماعت بڑھتی رہتی ہے اور خدا تعالیٰ نے سامان بھی ایسے کر دیے کہ بہت سے پٹواری ، دیہاتی مدرس اور نمبر دار وغیرہ جماعت میں داخل ہو گئے۔یہ لوگ چونکہ دیہاتیوں میں ہی رہتے 466