تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 465
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد دوم خطبه جمعه فرموده 24 نومبر 1944ء مجھے حیرت ہے کہ صدر انجمن احمدیہ کو یہ نام پیش کرنے کی جرات کیسے ہوئی ؟ انجمن میں پانچ سات تعلیم یافتہ اور ذمہ دار آدمی ہیں۔جب وہ یہ رپورٹ میرے پاس بھجوانے کے لئے لکھ رہے تھے ، ان کے ہاتھ کیوں نہ کانپ گئے؟ یہ تمسخر ہے، جو خدا، رسول اور اس کے خلیفہ سے کیا گیا۔امریکہ میں جو علمی لحاظ سے چوٹی کا ملک ہے، کسی انٹریس فیل یا انٹریس پاس کو بطور مبلغ بھیج دینا ، جو دینی علوم سے بھی کورا ہے یا ایک ایسے شخص کو بھیجنا ، جو 24 سال سے قادیان اس واسطے نہ آئے ہوں کہ گھر سے نکلیں تو بیمار ہو جاتے ہیں، جگ ہنسائی کی بات ہے۔در حقیقت یہ نتیجہ ہے، آدمی تیار نہ کرنے کا۔مگر ہم ایسی غلطی انشاء اللہ نہ کریں گے۔ہم اگر 106 مبلغ بیرونی ممالک میں بھیجیں گے تو اتنے ہی یہاں رکھیں گے تا پہلے مبلغ تین چار سال کے بعد واپس آسکیں اور دوسرے ان کی جگہ لے سکیں۔اس انتظام کے بغیر کوئی تبلیغی مرکز کھولنا ہنسی اور مذاق ہوگا۔ان تبلیغی مراکز کے علاوہ یہاں ایک تعلیمی ادارہ کا ہونا بھی ضروری ہے، جس میں علماء تیار ہوتے رہیں۔کیونکہ کسی جماعت کی زندگی کا انحصار اس کے علماء پر ہوتا ہے۔اس لئے علاوہ مدرسہ احمدیہ اور جامعہ احمدیہ کے اساتذہ کے چھ ایسے علماء کا مرکز میں موجود رہنا ضروری ہے، جو چوٹی کے علماء تیار کر سکیں اور جو ہر وقت مرکز میں موجود ہوں۔پھر اسی طرح ہندوستان میں دوسرے مقامات پر بھی مرکز کھولنے چاہئیں۔اس کے بغیر تعلیمی تنظیم مکمل نہیں ہو سکتی۔بنگال، بہار اور یو پی وغیرہ کے طالب علم قادیان میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے بکثرت نہیں آسکتے کیونکہ ایک تو یہاں آکر تعلیم حاصل کرنے میں خرچ زیادہ ہوتا ہے، دوسرے بعض اپنے اپنے علاقہ کے رسم ورواج کی مشکلات ہوتی ہیں اور پھر بعض والدین بھی بچوں کو اپنے سے جدا کر کے کسی اور جگہ پر بھیجنے سے کتراتے ہیں اور اس لئے جب تک مختلف مقامات پر تعلیمی مراکز قائم نہ کئے جائیں، فائدہ نہیں ہو سکتا۔اس لئے میرے نزدیک ایک مدرسہ دینیہ بنگال اور بہار کے لئے ہونا چاہئے ، ایک سندھ کے لئے ، ایک صوبہ بمبئی کے لئے ، ایک مدر اس کے لئے اور ایک صوبہ سرحد کے لئے اور ایک یوپی کے لئے۔ان مراکز کے قائم کرنے کا ایک لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ ان علاقوں کے طلباء ان میں حاصل کریں گے۔بنگال کا ایک لڑکا اگر قادیان میں تعلیم حاصل کرنے آتا ہے تو اس سے باقی بنگالیوں میں اپنے بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کے لئے قادیان بھیجنے کا زیادہ شوق پیدا نہیں ہوسکتا۔لیکن اگر ان کے لئے بنگال میں ہی ایک تعلیمی مرکز کھول دیا جائے تو ضرور دینی تعلیم حاصل کرنے کا شوق ان میں پیدا ہوگا اور یہی حال دوسرے صوبوں کا ہے۔اگر ہم صوبہ مدراس کے لئے دو چوٹی کے عالم مقرر کر دیں ، دو 465