تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 467
تحریک جدید - ایک البی تحریک۔۔۔۔۔۔جلد دوم خطبه جمعه فرموده 24 نومبر 1944ء اور ان سے ملتے جلتے رہتے ہیں، اس لئے زیادہ کامیابی کے ساتھ ان کو تبلیغ کر سکتے ہیں۔اس لئے میں نے خیال کیا کہ دیہات کی تبلیغی ضرورت کو پورا کرنے والے علماء تیار کئے جائیں۔چنانچہ میں نے دیہاتی مبلغین کی سکیم تیار کی۔دیہات میں تبلیغ کرنے والوں کو زیادہ منطق اور فلسفہ وغیرہ علوم کی ضرورت نہیں بلکہ قرآن کریم کا ترجمہ تفسیر، کچھ حدیث کا علم اور کچھ فقہی مسائل کا علم ہونا کافی ہے اور کچھ طب کا جاننا ضروری ہے تا وہ تکلیف کے وقت دیہاتیوں کی مدد کر سکیں اور خود بھی کچھ کما سکیں۔دیہاتی مبلغین کی ہمیں کس قدر ضرورت ہے؟ اس کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ ہندوستان میں انداز اتین سو اضلاع ہیں۔ہر ضلع میں اوسطاً چار تحصیلیں ہیں اور ہر تحصیل میں کم و بیش پانچ سود یہات ہیں۔گویا ایک ضلع میں دو ہزار کے قریب دیہات ہیں اور اس طرح ہندوستان بھر میں دیہات کی تعداد قریباً چھ لاکھ ہے اور ریاستی علاقہ برطانی ہند کے 1/3 کے قریب ہے۔اس لئے قریباً دولاکھ گاؤں ریاستوں کے ہیں اور انہیں شامل کر کے ہندوستان کے کل دیہات کی تعداد کم و بیش آٹھ لاکھ ہو جاتی ہے اور اس لحاظ سے ابھی ہر جگہ مبلغ رکھنے کا تو ہم واہمہ بھی نہیں کر سکتے۔سوائے اس کے کہ ہم میں سے ہر ایک کو اللہ تعالیٰ یہ توفیق دے دے کہ وہ تبلیغ کے لئے باہر نکل جائے۔موجودہ صورت میں تو اگر ایک ایک مبلغ کے سپرد پچاس پچاس گاؤں بھی کئے جائیں تو بھی کم سے کم سولہ ہزار مبلغ درکار ہوں گے اور ہم تو یہ بھی فی الحال نہیں کر سکتے۔حالانکہ ایک آدمی کا پچاس دیہات میں تبلیغی کام کرنا بہت مشکل ہے۔ایک آدمی زیادہ سے زیادہ پندرہ سولہ دیہات میں کام کر سکتا ہے۔لیکن اگر ہم اعلی پیمانہ پر کام نہ کرسکیں تو اس کے یہ معنے نہیں کہ بالکل ہی نہ کریں۔اس لئے فی الحال ہم سود یہاتی مبلغوں سے بھی کام شروع کر سکیں تو بھی بڑی بات ہے۔ان کے ذریعہ اور جماعتیں پیدا ہوں گی اور وہ اور بوجھ اٹھا ئیں گی اور ان کے ذریعہ اور ہوں گی اور آگے وہ بھی اور بوجھ اٹھائیں گی اور اس طرح یہ سلسلہ خدا تعالیٰ چاہے تو ترقی کرتا جائے گا اور جوں جوں جماعت ترقی کرتی جائے گی، یہ بنیاد مضبوط ہوتی چلی جائے گی اور جتنی جتنی بنیاد مضبوط ہوتی جائے گی، اتنی اتنی ہی عمارت اونچی ہوتی جائے گی۔اب ان کاموں کے اخراجات کا اندازہ سن لیں ، جو قلیل ترین اخراجات کا ہے۔بیرونی ممالک کے لئے جو 106 مبلغ ہوں گے، ان میں سے ہر ایک کے لئے اگر سات سور و پیہ ماہوار سفر خرچ اور لٹریچر کے خرچ کو شامل کر کے رکھا جائے ، جو بہت ہی تھوڑا ہے تو یہ خرچ 74 ہزار دوسور و پیہ ماہوار ہوگا اور سال کا یہ خرچ آٹھ لاکھ نوے ہزار دو سو روپیہ ہوگا۔اور 106 مبلغ ، جو ریز رور ہیں گے اور جن سے پہلے گروپ کا تبادلہ ہوتا رہے گا، ہندوستان میں چونکہ خرچ تھوڑا ہوتا ہے اور انہیں سفر بھی کم کرنا پڑے گا، گوان سے بھی 467