تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 453
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک جلد دوم خطبہ جمعہ فرمود 240 نومبر 1944ء اللہ عنہ اور مولوی عبد القادر صاحب لدھیانوی تھے۔ان میں سے چار حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ سے لے کر خلافت اولی تک وفات پاگئے۔ان کے بعد مولوی عبد القادر صاحب، مولوی برہان الملک صاحب، قاضی امیر حسین صاحب ، مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب، مولوی محمد اسماعیل صاحب، حافظ روشن علی صاحب اور میر محمد اسحاق صاحب باقی رہ گئے اور اس عرصہ میں جماعت کی توجہ ایسے کاموں کی طرف رہی کہ اسے علماء پیدا کرنے کا خیال ہی نہ آیا اور اس نے ایسے علماء پیدا کرنے کا کوئی انتظام نہ کیا، جو ہر قسم کے دینی علوم کی تعلیم دے سکتے ہوں۔اور اس وقت یہ حالت ہے کہ اس قسم کے علماء میں سے صرف ایک باقی ہیں یعنی سید محمد سرور شاہ صاحب اور وہ بھی اب نہایت ضعیف العمر ہو چکے ہیں۔اس وقت ان کی عمر ستر سال کے قریب ہے۔جس طرح حضرت مولوی عبد الکریم صاحب اور مولوی برہان الدین صاحب کی وفات کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی توجہ اس طرح مبذول ہوئی کہ ایک مدرسہ قائم کیا جانا چاہئے ، جہاں ان علماء کے جانشین تیار ہو سکیں اور آپ نے مدرسہ احمد یہ جاری کرایا۔اسی طرح میر محمد اسحاق صاحب کی وفات کے مد مجھے یہ احساس ہوا کہ جماعت میں علماء کی تیاری کا کام بہت تیزی سے ہونا چاہیے۔اگر چہ جامعہ احمدیہ موجود ہے اور اس میں بہت سے نوجوان مولوی فاضل کا امتحان بھی پاس کرتے تھے مگر اس زمانہ کے مولوی فاضل پاس اور پرانی طرز کے علماء میں بہت بڑا فرق ہے۔مولوی فاضل کا امتحان ایک خاص قسم کا نصاب کا پڑھ کر دیا جا سکتا ہے مگر اسے پاس کر کے کوئی شخص ایسا عالم نہیں ہوسکتا کہ ہرقسم کی علمی مشکل کوحل کرنے کے قابل ہو۔بہت سی علمی کتابیں ایسی ہیں کہ جنہیں نہ وہ پڑھتے ہیں اور نہ ہی ان کے پڑھنے کا ان کو موقعہ مل سکتا ہے اور اس لئے جو علماء تیار ہورہے تھے وہ درمیانی قسم کے تھے۔مگر کسی قوم کے دیگر اقوام پر غالب آنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ اس میں ایسے چوٹی کے علماء ہوں، جو ہر علم وفن کے ہر گوشہ میں مخالفین کو شکست دے سکیں۔مثلاً فقہ کاعلم ہے۔اس کے ایسے علماء ہوں، جو فقہی لحاظ سے بھی احمدیت کے نقطہ نگاہ کی فضیلت ثابت کر سکیں۔پھر احادیث کا علم ہے، پرانی تفاسیر ہیں ، فلسفہ ہے۔تو ہر فن کے ایسے علماء کا جماعت میں ہونا ضروری ہے، جو احمدیت کے نقطہ نگاہ کی فضیلت ثابت کر سکیں اور اس کے لئے ضروری ہے کہ احادیث ، تفسیر اور فلسفہ وغیرہ علوم کے اعلیٰ درجہ کے ماہر علماء ہم میں موجود ہوں۔قرآن کریم کی ادبی شان اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ادبی شان کو ظاہر کرنے کے لئے ضروری ہے کہ صرف و نحو اور ادب میں اعلیٰ درجہ کا کمال رکھنے والے علماء ہم میں پائے جاتے ہوں اور اس لیئے ان علوم کی تکمیل کرانا انتہائی طور پر ضروری ہے۔اس کے بغیر علمی لحاظ سے احمدیت کو دنیا میں غالب کرنا ممکن نہیں۔453