تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 454 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 454

خطبہ جمعہ فرمودہ 24 نومبر 1944ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم فرض کرو ہمارا ایک مبلغ مصر جاتا ہے، وہاں جامعہ ازہر ہے، جو نہ صرف مصر بلکہ تمام دنیا میں علمی لحاظ سے ایک چوٹی کی جگہ ہے۔وہاں ہمارا ایک مبلغ جائے اور ان علوم میں، جو وہاں پڑھائے جاتے ہیں، وہاں کے علماء کا مقابلہ نہ کر سکے تو گو یہ تو صحیح ہے کہ ہمیں مذہبی شکست تو نہ ہوگی مگر مخالفین کو شور مچانے کا موقعہ تو ضرور مل جائے گا اور یہ بات بہت سے لوگوں کے لئے ہدایت سے محروم ہو جانے کا ذریعہ ہو جائے گی۔اسی طرح ہندوستان میں دیو بند ہے ، جو علمی لحاظ سے کافی شہرت رکھتا ہے۔اگر ہمارے علماء وہاں کے علوم سے واقف نہ ہوں اور وہاں کے علماء کو ساکت نہ کرسکیں تو وہاں کے علماء اپنے علمی غرور میں سچائی کو ماننے سے محروم رہ جائیں گے اور ان کے ماننے والے بھی ہدایت نہ پاسکیں گے۔بہت کم لوگ ہوتے ہیں، جو صداقت کو اس کے اصلی معیار پر پر کھتے ہیں۔ایسے لوگ اسی قسم کے ہوتے ہیں، جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ تھے۔وہ لوگ نہ صرف و نحو سے واقف تھے اور نہ دیگر ایسے علوم سے۔حدیث کے قواعد تو مدون ہی بعد میں ہوئے۔وہ تو صرف اتنا جانتے تھے کہ ہم نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی اور اسے آگے سنانا ہے۔اس وقت تک اسناد و غیرہ کے متعلق پیچیدگیاں پیدا ہی نہ ہوئی تھیں۔یہ تو سود و سو سال بعد میں ہوئی ہیں۔تو اصل صداقت معلوم کرنے کے لئے ان باتوں کی ضرورت نہیں۔مگر جن لوگوں سے ہمارا مقابلہ ہے، ان کا مقابلہ کرنے کے لئے ان کی ضرورت ہے اور پھر وسعت نظر کے لئے بھی یہ بات نہایت ضروری ہے کہ ہر قسم کے علوم سے مزین علماء اور چوٹی کے علماء جماعت میں موجود ہوں اور میر محمد اسحاق صاحب کی وفات نے میری زیادہ توجہ اس طرف پھیری کہ جماعت میں چوٹی کے علماء پیدا کرنے کے لئے زیادہ تیزی سے کام ہونا چاہئے۔گو اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ میں ایک سال پہلے سے ہی اس طرف توجہ کر رہا تھا۔تعلیم کے طریق میں تبدیلی کر چکا تھا مگر میر صاحب کی وفات پر اس طرف اور زیادہ توجہ ہوئی اور دو درجن کے قریب طلباء کو میں نے اعلیٰ علوم کی تکمیل کے لئے مقرر کر دیا ہے۔غرض اب جبکہ تحریک جدید کے پہلے دس سال کا دور ختم ہونے کو ہے، کام کی اہمیت بہت زیادہ ہوگئی ہے، اس کی مشکلات آگے سے بہت زیادہ واضح ہو چکی ہیں۔چنانچہ جماعت کو بھی اس کا احساس ہورہا ہے اور بعض دوست مجھے لکھ رہے ہیں کہ اس عرصہ میں ہمیں قربانی کی عادت ہوگئی ہے ، اب یہ دور ختم ہونے والا ہے، ایسانہ ہو کہ آئندہ ہم اس نیکی سے محروم ہو جائیں کسی نہ کسی صورت میں اس قربانی کا دروازہ جماعت کے لئے کھلا رہنا چاہئے۔مگر کچھ لوگ ایسے بھی ہوں گے، جو اپنے دلوں میں کہتے ہوں گے کہ الحمد للہ ہمیں اس تحریک میں حصہ لینے کا موقع مل گیا، اب دس سال پورے ہو رہے ہیں اور یہ تحریک ختم ہو جائے گی اور ہمیں آرام کرنے 454