تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 452
خطبه جمعه فرموده 24 نومبر 1944ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد دوم والے بھی ابھی ناواقف ہیں۔اس لیے وہاں زمین کی آمد بھی پنجاب کی زمینوں کی آمد کی نسبت دسواں کا بیسواں حصہ بھی نہیں اور اس وقت کل آمد پچاس ساٹھ ہزار روپیہ سے زیادہ نہیں۔اور جیسا کہ میں بتا چکا ہوں زمین کا کچھ حصہ ابھی ایسا ہے، جس کی قیمت بھی ابھی ادا کرنی ہے، کچھ قرضے بھی ہیں۔اور اندازہ ہے کہ جب ساری زمین پوری طرح آزاد ہو جائے گی اور قرضے وغیرہ اتر جائیں گے تو لاکھ سوالاکھ روپیہ تک آمد ہو سکے گی۔ابھی چار لاکھ روپیہ کے قریب بار اس زمین پر ہے گو کچھ روپیہ ہمارے پاس محفوظ بھی ہے مگر اسے نکال کر بھی دو اڑھائی لاکھ روپیہ کے قریب رقم قرضہ کی ہے اور ہم نے ادا کرنا ہے اور اس عرصہ میں جو اخراجات ہوں گے، وہ علاوہ ہیں۔جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں ہمارے سامنے جو کام ہے، وہ بہت بڑا ہے اور ہماری ذمہ داریاں بہت زیادہ ہیں۔ابھی تک ہم ہندوستان سے باہر تبلیغ کی طرف بہت تھوڑی توجہ دے سکے ہیں کیونکہ اس کے لیے ابھی مبلغ تیار نہیں ہو سکے مگر پھر بھی اس وقت تحریک کا ستر اسی ہزار روپیہ سالانہ خرچ ہے۔اس کے علاوہ ب بعض نئے کام بھی جاری کئے گئے ہیں، ان کے اخراجات علاوہ ہیں اور یہ سب ملا کر سوالاکھ کے قریب کل خرچ ہے اور پھر اس کام کو چلانے کے لیے الگ روپیہ کی ضرورت ہے اور وہ قرضے جو ا بھی ادا کرنے ہیں، وہ اس کے علاوہ ہیں اور انہیں ادا کر کے ہی زمین کو آزاد کرایا جا سکتا ہے۔پھر ریز روفنڈ کو بڑھانے اور اسے مضبوط کرنے کی بھی ضرورت ہے اور یہ سب کام ایسے ہیں کہ ان کے لیے روپیہ کی سخت ضرورت ہے۔اس عرصہ میں ہم نے تبلیغ کو وسیع کرنے کے لیے جو تیاری کی ہے، اس کے سلسلہ میں چالیس کے قریب نوجوان ہیں، جو تیار کئے جار ہے ہیں۔ان میں سے ہیں کے قریب تو ایسے ہیں کہ جو اپنی تعلیم کو جلد ہی ختم کرنے والے ہیں اور بیس کے قریب ابھی ابتدائی تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور امید کی جاتی ہے کہ تین چار سال میں اپنی تعلیم کو مکمل کر سکیں گے اور کام کے قابل ہوسکیں گے۔اس عرصہ میں اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنی حکمت کے ماتحت یہ بات بھی سمجھا دی کہ تحریک جدید کے ماتحت علماء کی تیاری کا کام کس قدر اہم ہے اور وہ اس طرح کہ اس عرصہ میں علمی لحاظ سے بعض ایسے صدمے پہنچے کہ میں نے محسوس کیا کہ اگر ہماری غفلت اسی طرح جاری رہی تو جماعت علماء سے محروم ہو جائے گی۔مولوی محمد اسماعیل صاحب کی وفات بھی اسی عرصہ میں ہوئی اور پھر میر محمد اسحاق صاحب فوت ہو گئے اور اس طرح پرانی طرز کے علماء میں سے صرف مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب باقی رہ گئے۔پہلے علماء میں سے حضرت مولوی عبدالکریم صاحب، مولوی برہان الدین صاحب، مولوی غلام حسین صاحب، مولوی برہان الملک صاحب مشہور صرفی عالم ، حضرت خلیفہ اول رضی 452