تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 451 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 451

تحریک جدید- ایک الہی تحریک جلد دوم خطبہ جمعہ فرموده 24 نومبر 1944ء اگر پنجاب کی زمینوں کی قیمتوں پر قیاس کیا جائے تو یہ تمام زمین قریبا ستر اسی لاکھ روپیہ کی ہوتی ہے۔مگر آج کل سندھ میں زمین کی جو قیمتیں ہیں، ان کے لحاظ سے بھی یہ جائیداد 26-25 لاکھ روپیہ کی ہے، جو ہمارے قبضہ میں آچکی ہے یا خریدی گئی ہے یا جس کے بیعانے دیئے جاچکے ہیں۔سو اللہ تعالیٰ نے اس عرصہ میں جہاں ہمیں کام کے جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائی ، وہاں ریزروفنڈ کے قائم کرنے کی بھی توفیق بخشی مگر جو کام ہمارے سامنے ہے، اس کے لحاظ سے یہ ریز روفنڈ ابھی اتنا بھی نہیں جیسے سمندر کے مقابلہ میں قطرہ ہوتا ہے۔بہت بڑا کام ہمارے سامنے ہے اور ہم پر بہت بڑی بڑی ذمہ داریاں ہیں۔اس دوران میں تحریک جدید کے ماتحت ہمارے مبلغ جاپان میں گئے، تحریک جدید کے ماتحت چین میں مبلغ گئے تحریک جدید کے ماتحت سماٹرا اور جاوا میں مبلغ گئے ، سنگا پور میں گئے اور اس تحریک کے ماتحت خدا تعالیٰ کے فضل سے پین، اٹلی ، ہنگری، پولینڈ، البانیہ، یوگوسلاویہ اور امریکہ میں بھی مبلغ گئے اور افریقہ کے بعض ساحلوں پر بھی اسی تحریک کے ماتحت مبلغ گئے اور ان مبلغین کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہزاروں لوگ سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئے اور سلسلہ سے لاکھوں لوگ روشناس ہوئے اور دنیا کے دور دراز کناروں تک اس تحریک کے ماتحت احمدیت کا نام اور اس کی شہرت پہنچی۔تحریک کے شروع میں جو مبلغ لیے گئے ، وہ ہنگامی طور پر لیے گئے تھے۔ان کی تبلیغی تعلیم پوری نہ تھی الا ماشاء اللہ اور ان مبلغین میں سے بعض اس وقت لا پتہ ہیں، مثلاً مولوی محمد الدین صاحب یہاں سے افریقہ بھیجے گئے تھے، راستہ میں وہ جہاز ، جس میں وہ سفر کر رہے تھے، فرق ہو گیا اور اب ہمیں پتہ نہیں کہ وہ زندہ بھی ہیں یا نہیں اور اگر زندہ ہیں تو اس وقت کہاں ہیں؟ تحریک جدید کے بعض مبلغین اس وقت دشمن کے ہاتھوں میں قیدی ہیں۔سٹریٹ سیٹلمنٹس میں ہمارے مبلغ مولوی غلام حسین صاحب ایاز تھے۔جاوا، سماٹرا میں مولوی شاہ محمد صاحب اور ملک عزیز احمد صاحب گئے تھے اور یہ تینوں اس وقت جاپانیوں کی قید میں ہیں تو گویا یہ تین قید ہیں اور ایک اس وقت تک لا پتہ ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اس دس سال کے عرصہ میں سلسلہ کو خاص ترقی دی اور احمد بیت کا نام اور اس کی شہرت کو دنیا کے کناروں تک پہنچادیا اور یہ ایک ایسی غیر معمولی کامیابی ہے کہ جس کی مثال ہمارے سلسلہ کے دور خلافت میں نہیں ملتی۔مگر یہ کام اس قسم کا نہیں کہ آج ہی ہم اسے ختم کر دیں۔بے شک ہم نے ایک ریز روفنڈ تو قائم کیا ہے مگر کام کی وسعت کے مقابلہ میں یہ بہت ہی کم ہے۔سندھ میں زمینداری کا کام ابھی نیا نیا ہے اور یہ کام کرانے والے بھی ابھی نئے ہیں اور زمیندارہ کام سے ناواقف ہیں بلکہ کام کرنے 451