تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 441 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 441

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد دوم خطبہ جمعہ فرمودہ 10 نومبر 1944ء میدان میں بڑھتے چلے جائیں گے۔کیونکہ ہمارا کام بہت وسیع ہے، ہماری ذمہ داریاں بہت اہم ہیں اور ہمارے فرائض اتنے نازک ہیں کہ ہماری ذراسی غفلت اور ذراسی کو تاہی بھی بہت بڑے نقصان کا موجب بن سکتی ہے۔میں ابھی اس کے متعلق کچھ کہنا نہیں چاہتا کہ یہ تحریک کس رنگ میں اور کس شکل میں جماعت کے سامنے آنے والی ہے؟ لیکن بہر حال میں امید رکھتا ہوں کہ مومن کا اخلاص ہر مصیبت اور ہر مشکل کے وقت اس کے کام آتا ہے اور وہ کسی قربانی سے بھی دریغ نہیں کرتا۔خواہ وہ اس کے سامنے کسی شکل میں ہی کیوں نہ پیش ہو۔میں سمجھتا ہوں ہماری جماعت کا وہ طبقہ، جو اپنے دلوں میں نور ایمان رکھتا ہے، جو اپنے قلوب میں اخلاص اور محبت کی آگ رکھتا ہے، جس کا ایمان صرف زبانوں پر نہیں بلکہ اس کے قلوب ایمان کی روشنی سے منور ہیں، وہ اس بوجھ کو بھی اٹھائے گا اور آنے والے بوجھ کو اٹھانے کے لئے بھی پوری ہمت کے ساتھ تیار ہوگا اور جب اس کے سامنے اس قربانی کو پیش کیا جائے گا تو وہ انتہائی جوش کے ساتھ اس میں حصہ لیتے ہوئے خدا تعالی کے سامنے سرخرو ہو جائے گا اور اپنے نفس کے لئے دائمی ثواب حاصل کر لے گا۔لیکن وہ جو کمزور ہیں ، جو قربانیوں کے میدان میں قدم رکھتے ہوئے ہچکچاتے ہیں، جن کے پاؤں میں ثبات نہیں اور جن کے ارادوں میں مضبوطی نہیں ، ہمیں اللہ تعالیٰ سے دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اخلاص سے حصہ عطا فرمائے ، ان کے دلوں میں دین کے لئے قربانی اور اس کی رضا کے لئے مر مٹنے کا جوش ہے انتہا طور پر پیدا فرمائے ، ان کی غفلتوں کو دور فرمائے اور ان کی کمزوریوں کو نیکیوں سے بدل دے تاکہ وہ ہر قسم کی قربانی پر آمادہ ہو جائیں اور خدا تعالی کی آواز سن کر آگے کی طرف بڑھیں، پیچھے کی طرف ہٹنے والوں میں سے نہ ہوں۔ہم یقین رکھتے ہیں کہ ہمارے سپر د جو کام کیا گیا ہے، وہ خدا تعالیٰ کا ہے اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ یہ کام خدا تعالیٰ نے ہی کرنا ہے ، ہم نے نہیں کرنا اور ہم یہ بھی یقین رکھتے ہیں کہ جس بات کے کرنے کا خدا تعالیٰ ارادہ کر لے، وہ ہو کر رہتا ہے۔جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔جس بات کو کہے کہ کروں گا یہ میں ضرور ٹکتی نہیں وہ بات خدائی یہی تو ہے یہ ملنے والی بات نہیں۔خدا تعالیٰ کا فیصلہ ہے، جو آخر ہوکر رہے گا۔ہماری غفلتیں اس فیصلہ کو روک نہیں سکتیں۔ہاں اگر ہم کوشش کریں تو ہمارے لئے یہ ایک ثواب کی بات ہوگی اور ہم بھی لہولگا کر شہیدوں میں شامل ہونے والے قرار پا جائیں گے۔ہماری خواہش تو یہ ہے کہ اللہ تعالی ہمیں حقیقی شہداء 441