تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 31 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 31

تحریک جدید - ایک البی تحریک۔۔۔۔۔جلد دوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 02 اگست 1940ء لئے ہوائی جہازوں سے اشتہار پھینکے، جن میں لکھا تھا کہ ممکن تھا اس اشتہار کی جگہ جو تم اٹھا رہے ہو، ہم گرتا جو جرمن یا روسیوں کا ہوتا۔غور کرو اگر ایسا ہوتا تو تمہاری کیا حالت ہوتی ؟ اس لئے اس وقت کی اہمیت کو پہچانیں اور جلد چندہ دیں تا اس سے ہوائی جہاز شہر کی حفاظت کے لئے خریدے جائیں۔اب دنیا میں فاصلہ کا سوال بالکل مٹ چکا ہے۔ہوائی جہاز دو دو، تین تین ہزار میل پر جا کر حملہ کرتے ہیں اور پھر واپس آجاتے ہیں اور دشمنوں کو ایسے مواقع حاصل ہیں کہ اگر چاہیں تو ہندوستان پر حملہ کر دیں۔گوا بھی کیا نہیں مگر ہندوستان میں شدید خطرہ محسوس ہو رہا ہے۔ادھر چین اور جاپان میں جنگ شروع ہے، امریکہ الگ کھڑا رہا ہے اور یورپ میں تو جنگ ہو ہی رہی ہے۔ہر طرف خطرات ہی خطرات ہیں اور خطرات بھی ایسے کہ بہادری سے ان کا مقابلہ کرنے کا کوئی موقع نہیں اور کوئی سینہ تان کر یہ نہیں کہہ سکتا کہ آئے کون میرے مقابلہ پر آتا ہے؟ ہوائی جہاز اوپر سے حملہ کرتے ہیں اور بعض اوقات نظر بھی نہیں آتے۔وہ تمہیں تمہیں ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کر رہے ہوتے ہیں۔چیل نظر آتی ہے مگر جہاز نہیں ، صرف بم گرتے ہیں۔جب موت اس قدر قریب ہو تو مومن اگر اپنی ذمہ واری کو نہ سمجھے تو بہت افسوس کا مقام ہے۔پس میں احباب جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے فرائض کو سمجھیں اور موقع کی نزاکت کے لحاظ سے قربانیوں میں تیز ہوں نہ کہ ست۔جو لوگ ایسے نازک وقت میں بھی خدا تعالیٰ کی طرف نہیں جھکتے ایسے سنگ دل لوگ گو بظاہر جماعت میں شامل ہوں مگر خدا کے نزدیک ان کا شمار مومنوں میں نہیں ہوتا اور کوئی وجہ نہیں کہ ایسے لوگوں کو خدا تعالیٰ کا فضل بچائے ایسے لوگ باوجو د مومنوں کی جماعت شامل ہونے کے خدا تعالیٰ کی گرفت سے نہیں بچ سکتے۔جب ہلاکو خان نے بغداد پر حملہ کیا تو بغداد میں ایک بزرگ رہتے تھے۔لوگ ان کے پاس آئے اور کہا کہ آپ دعا کریں، اللہ تعالیٰ بغداد کو ہلاکت سے بچائے۔اس بزرگ نے کہا کہ میں کیا دعا کروں؟ میں جب بھی دعا کرنے لگتا ہوں مجھے فرشتوں کی یہ آواز میں آتی ہیں:۔يَا أَيُّهَا الْكُفَّارُ اقْتُلُوا الْفُجَّارَ یعنی اے کا فرو! ان مسلمانوں کو جو بے دین ہو چکے اور دین سے بالکل غافل ہیں قتل کر دو۔تو جب ایسے نازک اور خشیت کے موقع پر بھی کوئی شخص دین کی خدمت سے غافل رہتا ہے اور قربانی نہیں کرتا۔اللہ تعالیٰ کے اس وعدہ کے باوجود کہ ان قربانیوں کے نتیجہ میں مرنے کے بعد اسے جنت ملے گی اور خدا تعالیٰ کے انعام اس پر ہوں گے۔تو وہ کس منہ سے ایمان کا دعوی کر سکتا ہے؟ جنگ میں جو 31