تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 32 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 32

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 02 اگست 1940ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم لوگ قربانیاں کرتے ہیں ، ان کو موت کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے جنت یا کسی انعام کی امید نہیں۔کوئی جرمنی کے لئے قربانی کرتا ہے، کوئی فرانس کے لئے اور کوئی انگلستان کے لئے لیکن جو بد قسمت خود و عدہ کرنے کے باوجود اور اس کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ سے انعامات کے وعدہ کے ہوتے ہوئے ، خدا تعالٰی کی راہ میں قربانی کرنے میں تامل کرتا ہے۔وہ کس طرح امید کر سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا فضل اسے ڈھانپ لے گا؟ اللہ تعالیٰ بھی اسے کہے گا کہ تمہارے سامنے ایسے لوگ تھے جنہوں نے بغیر کسی انعام کے وعدہ کے محض دنیوی عزت اور چند روزہ آرام کے لئے قربانیاں کیں اور جانیں تک دے دیں۔مگر تم نے دین کے لئے قربانی نہ کی پھر تم کس طرح امید رکھ سکتے ہو کہ میرے فضلوں کے وارث ہو؟ ہٹلر کس لئے لڑ رہا ہے؟ اس لئے کہ یورپ کو فتح کرے۔مگر یورپ دنیا کا کتنا حصہ ہے؟ وہ آبادی، پیداوار اور علاقہ ہر لحاظ سے ادنیٰ ہے۔تمام قیمتی پیداوار میں یا تو ایشیا میں پیدا ہوتی ہیں یا امریکہ اور افریقہ میں مگر اس ادنی سے ملک پر غلبہ کے لئے دیکھ لو جرمن کتنی قربانیاں کر رہے ہیں؟ مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مومن کی جنت سارے زمین و آسمان کے برابر ہوگی۔اور آج تک دنیا میں کوئی ایسا آدمی نہیں گزرا جس کی بڑی سے بڑی امنگ اور امیدادنی مومن کے ہزارویں حصہ کے بھی برابر ہو اور انعامات کے اس قد ر فرق کے باوجود اگر کوئی شخص قربانی سے دریغ کرتا ہے تو سوائے اس کے کیا کہا جاسکتا ہے کہ اس کا دل نور ایمان سے بالکل خالی ہے۔(مطبوعہ الفضل 18 ستمبر 1940ء ) 32