تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 30
اقتباس از خطبه جمعه فرمود و 02 اگست 1940ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم کہ ان کے وعدہ پورا نہ کرنے کی وجہ سے بدنامی ساری جماعت کی ہوتی ہے۔مگر خدا تعالیٰ کے ہاں اس کا عذاب صرف ان لوگوں پر ہے جنہوں نے نام تو لکھوا لئے مگر وعدے پورے نہ کئے۔انہوں نے لوگوں میں جھوٹی عزت تو حاصل کر لی مگر خدا تعالیٰ کی لعنت کے مورد ہو گئے۔میں نے اس امر کی طرف بار بار توجہ دلائی ہے۔مگر پھر بھی میں دیکھتا ہوں کہ ایک طبقہ ایسا ہے جو اس روش سے باز نہیں آتا ، وہ نام تو لکھوا دیتے ہیں مگر وعدوں کو پورا نہیں کرتے اور ادا کرنے میں غافل رہتے ہیں۔ان کا یہ فعل ہرگز مستحسن نہیں بلکہ صریح خسران کا موجب ہے۔اور یہ ایسی ہی بات ہے کہ کوئی انسان اپنے ہاتھ سے اپنی ناک کاٹ دے۔دشمن اگر کسی کی ناک کاٹ دے تو یہ بھی بری بات ہے اور جب وہ گزرے تو لوگ کہتے ہیں کہ تک کٹا جارہا ہے مگر یہ لوگ تو ایسے ہیں کہ جیسے کوئی استرالے کر اپنے ہاتھ سے اپنی ناک کاٹ دے۔اور ظاہر ہے کہ ایسا شخص بالکل دیوانہ یا فاتر اعقل ہی ہوسکتا ہے۔اسی طرح جس چندہ میں پابندی کی کوئی شرط نہیں اس میں جوشخص اپنی مرضی سے پہلے نام لکھواتا ہے اور پھر عدم ادائیگی سے جماعت کو ذلیل کرتا ہے، وہ بھی ویسا ہی دیوانہ اور فاتر العقل ہے جیسے استرالے کر اپنی ناک خود کاٹنے والا۔میں نے بارہا کہا ہے کہ اس چندہ میں وعدے صرف وہی لوگ لکھوائیں جو خدا تعالیٰ کے دربار میں سابِقُونَ میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔لوگوں میں جھوٹی عزت حاصل کرنے کے شائق نام نہ لکھوائیں۔مگر میں نے دیکھا ہے پھر کئی لوگ یو نہی نام لکھوا دیتے ہیں۔کوئی شخص یہ خیال کرے کہ اسے کوئی تکلیف بھی نہ پہنچے اور وہ خدا تعالیٰ کا مقرب بھی ہو جائے؟ یہ ناممکن ہے۔قربانی کے بغیر اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہونا ناممکن ہے۔وو۔پس میں جماعت کے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اس بات کو ہمیشہ مد نظر رکھیں کہ تحریک جدید کے چندے طوعی ہیں۔اس لئے ان کو پورا کرنے کیلئے ان کو پوری کوشش کرنی چاہئے اور اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ اگر انہیں اس قربانی کی توفیق نہیں ملتی تو اس کے معنی یہ ہیں کہ خدا تعالیٰ نے ان کی پہلی قربانیوں کو بھی قبول نہیں کیا۔ورنہ آج ان سے سستی سرزد نہ ہوتی۔ستی کے معنی ہی یہ ہیں کہ پہلے عمل ضائع ہو چکے۔پس میں پھر توجہ دلاتا ہوں کہ دوست سستی اور غفلت کو ترک کر دیں کیونکہ اس سے پہلے سالوں کی قربانیاں بھی ضائع ہو جائیں گی۔یہ تو زمانہ اس قسم کا ہے کہ انسان کے سامنے سے ایک منٹ کے لئے بھی موت اوجھل نہیں ہونی چاہئے۔میں ابھی لاہور سے آرہا ہوں وہاں ہوائی جہازوں کے لئے لوگوں میں چندہ کی تحریک کرنے کے 30